انگلینڈ کے محکمہ پولیس میں حجاب متعارف ہونے کیلئے تیار

نیوزی لینڈ پولیس کی جانب سے متعارف کیا جانے والا حجاب جلد انگلینڈ کی محکمہ پولیس میں بھی استعمال کیا جائے گا۔

نیوزی لینڈ میں پولیس یوینفارم کا حصؔہ بننے والا حجاب مختلف خصوصیات کو مدؔنظر رکھتے ہوئے 16 ماہ کی تحقیق کے بعد بنایا گیا تھا، اس حجاب میں حفاظتی خصوصیات بھی ہیں جیسے کہ مقناطیسی فاسٹنگز جو پکڑنے میں آسانی سے نکل جاتی ہیں۔ اپنی منفرد خصوصیات کی بدولت اس حجاب کو اب لیسٹر شائر پولیس میں باقاعدہ ٹرائل کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے بلکہ لیسٹر شائر پولیس نیوزی لینڈ پولیس کے اس ماڈل حجاب کو آزمانے والی ملک کی پہلی پولیس فورس ہے۔ لیسٹر شائر پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی حجاب کے متعدد ڈیزائن آزمائے گئے لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔

Image Source: Leicestershire Police

اس سے قبل میٹرو پولیٹن پولیس، نارتھ یارکشائر پولیس اوراسکاٹ لینڈ پولیس نےحجاب کے مختلف ڈیزائن آزمائے ہیں اور وہ مسلم خواتین کو یونیفارم میں حجاب کا آپشن فراہم کرچکی ہیں۔

اس حوالے سے یوسف ناگدی جو کہ نیشنل ایسوسی ایشن آف مسلم پولیس سے تعلق رکھتی ہیں کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس لیسٹر شائر میں ایک متنوع برادری ہے اور ہم اس برادری کی عکاسی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کو محکمہ پولیس میں شامل ہوں تاکہ لوگوں کی مدد کرسکیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ متعدد افراد پولیس میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے عقیدے میں سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے ہیں ان لوگوں کے لئے یہ حجاب اچھا آپشن ہے۔

Image Source: Leicestershire Police

لیزسٹر شائر پولیس کی طالب علم آفیسر خدیجہ منصور نے بطور ٹرائل دوران ٹرینگ یہ حجاب آزمایا اور وہ بہت مطمئن ہوئیں۔ اس حوالے سے پولیس آفیسر خدیجہ منصور نے بتایا کہ وہ اکتوبر سے اس حجاب کی جانچ کر رہی ہیں اور یہ حجاب بہترین اور بہت آرام دہ ہے اور اسے پہننے کے بعد ٹرینگ کے دوران کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حجاب کو ہمارے یونیفارم کا حصؔہ ہونا چاہئیے تاکہ دیگر مسلم خواتین کو بھی آگاہی مل سکے کہ لیسٹر شائر پولیس تمام انفرادی ضروریات کو پوری کرنا جانتی ہے۔

لیزسٹر شائر پولیس نیوزی لینڈ کا یہ تیارہ کردہ اس حجاب جو کہ ابھی ٹرائل میں ہے اور اس کا ٹرائل اپریل تک جاری رہے گا جس کہ بعد اسے قومی سطح پر متعارف کروانے پر غور کیاجائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال نیوزی لینڈ کی پولیس میں زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کی شمولیت کے لیے حجاب کو پولیس یونیفارم کا حصہ بنا دیا گیا جبکہ ایک باحجاب خاتون اہلکار زینا علی نے باقاعدہ پولیس میں شمولیت بھی اختیار کی اور وہ پولیس میں تعینات اور حجاب پہن کر ڈیوٹی انجام دینے والی ملکی تاریخ کی پہلی خاتون اہلکار بنیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago