ایک اچھی عورت رتبے میں اچھے مرد سے اتنی بڑی ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے، خلیل الرحمان

پاکستانی اسکرین رائٹرو ڈائریکٹر خلیل الرحمان قمر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ اپنے لکھے گئے ڈراموں کے علاوہ بیانات دینے کی وجہ سے بھی کافی مقبول ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اداکارہ سارہ لورین کے ساتھ نجی ٹی وی کے شو میں شرکت کی جس میں انہوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ اس شو میں خلیل الرحمان قمر کی جانب سے دئیے جانے والے جوابات کے مختلف کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔

اس انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں مرد اور عورت دونوں میں سے کسی کو اس حوالے سے ایک جگہ نہیں دیتا لیکن یہ سچ ہے کہ ایک عورت کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں کیوں کہ ایک اچھی عورت رتبے میں ایک اچھے مرد سے اتنی بڑی ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔

Image Source: Instagram

اس موقع پر خلیل الرحمان قمر کا کہنا تھا کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب مرد گناہ کرتا ہے تو ایک گھر کا نقصان ہوتا ہے لیکن جب عورت گناہ کرتی ہے تو ایک نسل کا نقصان ہوتا ہے۔

مذکورہ شو میں انہوں نے مہوش خیات اور ہمایوں سعید کے بارے میں بھی دلچسپ انکشافات کئے۔ انہوں نے کہا کہ میری مہوش حیات کے ساتھ ’لندن نہیں جاؤں گا‘ آخری فلم ہے اس کے بعد میں ان کے کے ساتھ کام نہیں کروں گا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے بہت کام کرلیا اب دوسروں کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ جبکہ ہمایوں سعید کے بارے میں کہا کہ میں ان کے لیے کرداد لکھ لکھ کر تھک گیا ہوں۔ انہوں نے کہا اب ان لوگوں پر کوئی اور رائٹر کام کرے، مجھے ان کی عمر سے کوئی مسئلہ نہیں، نا ہی یہ میرے لیے عمر اہمیت رکھتی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب انہوں نے بہت سارا کام کرلیا ہے، اب دوسروں کو موقع ملنا چاہیے۔

اسی انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ وہ معروف اداکارہ ماہرہ خان کو ماضی میں کیے گئے ان کے ایک ٹوئٹ پر بھی معاف کر چکے ہیں۔ جبکہ نعمان اعجاز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں نے نعمان اعجاز کا آڈیشن لیا تھا جس میں وہ فیل ہو گیا تھا۔

Image Source: Instagram

شو میں جب ایک موقع پر سارہ لورین نے جب اپنے کیریئر کی کامیابی کا سہرا ہندوستانی بھٹ خاندان کو دیا اور ان کی تعریف کی تو خلیل الرحمان کو یہ بات پسند نہیں آئی اور انہوں نے ان پر خوب کھری کھری سنائی اور انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ خلیل الرحمان قمر نے یہاں تک کہا کہ ’سارہ کو شرم آنی چاہیے۔ یہ کہہ کر کہ اس کا کیریئر بھٹوں نے انڈیا میں بنایا ہے‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے بھی بالی وڈ سے پیشکش ہوئی لیکن میں نہیں گیا، مجھے کرن جوہر کے علاوہ ہر طرف سے پیشکش آئی لیکن میں نے انکار کردیا۔

ڈرامہ رائٹر کا مزید کہنا تھا کہ جب تک دونوں ملکوں کے حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے اور مجھے وہ عزت نہیں ملتی جس کا میں حقدار ہوں، میں بھارت میں کبھی بھی نہیں اتروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو بالی ووڈ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے اور بطور انڈسٹری کامیاب ہونے کے لیے شروع سے شروعات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی فنانسنگ، سینما اور فلم پروڈکشن کی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ‘لنڈا بازار‘، ’بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ‘، ’پیارے افضل‘ اور ’میرے پاس تم ہو‘ جیسے سپرہٹ ڈراموں کے خالق خلیل الرحمان اپنے شدید فیمینزم مخالف بیانات کے سبب کافی تنازعات کا شکار رہے ہیں بلکہ وہ ‘فیمنسٹ‘ کے سب سے بڑا ناقد تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ متعدد پروگراموں میں یہ کہتے نظر آتے رہے ہیں کہ ’فیمنسٹ‘ دراصل غیر ملکی ایجنڈا اور ہماری اقتدار اور روایات کے خلاف ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago