ڈاکٹر ماہا کی خودکشی میں استعمال ہونے والا پستول کس کا تھا؟

کراچی کے علاقے ڈیفنس گزری کے مقام پر بنگلے میں نوجوان خاتون ڈاکٹر سیدہ ماہا شاہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق رواں ہفتے ڈیفنس میں ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر سیدہ ماہا شاہ نے اپنے گھر کے واش روم میں گھریلو پریشانیوں کے باعث مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی تاہم پولیس کی جانب سے معاملے کی جب تحقیقات کا آغاز کیا گیا تو کچھ حیران کن حقائق سامنے آئے جس میں خودکشی کرنے والی خاتون نے گولی اپنے سر میں پیچھے کی طرف سے کیسے ماری؟ ڈاکٹر ماہا شاہ کے پاس پستول کہاں سے آئی، کیا وہ لائسنس والی تھی یا بغیر لائسنسز کی؟ گھر والوں نے مزید قانونی کارروائی سے منع کیوں کیا؟

پولیس ابھی تمام پہلوؤں پر جہاں تحقیقات کر رہی ہے وہیں پولیس کو اسلحے کے معاملے پر تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جس میں خودکشی میں استعمال ہونے والے اسلحے کے ماملک نے پولیس سے رابطہ کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق پستول کے مالک سعد نصیر کے اہلخانہ سے خودکش کرنے والی نوجوان خاتون ڈاکٹر ماہا شاہ کے اہلخانہ کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد سعد نصیر نے پولیس سے رابطہ کیا اور اہم rمعلومات پولس فراہم کی۔

سعد نصیر نے پولیس کو اسلحے سے متعلق بتایا کہ یہ اسلحہ اس نے سال 2010 میں بشیر خان ٹریڈنگ کمپنی سے خریدا گیا تھا جبکہ اس نے کچھ عرصہ قبل اپنی پستول اپنے ایک دوست کو دی تھی جبکہ ڈاکٹر ماہا شاہ کو یہ پستول اس کے دوست نے دی یعنی ڈاکٹر ماہا شاہ تک یہ پستول براہ راست طور پر ان کی جانب سے نہیں دی گئی تھی۔

ساتھ ہی دوسری جانب اس کیس کی تحقیقات میں پولیس پہلے ہی اہلخانہ اور قریبی دوستوں کا بیان قلمبند کرچکی ہے۔

مزید جانئے: ڈاکٹر ماہا شاہ کی خودکشی میں حیران کن پہلو سامنے آگیا

واضح رہے یہ معاملہ رواں ہفتے منگل کی رات ڈیفنس میں پیش آیا تھا۔ جہاں نوجوان ڈاکٹر ماہا شاہ کی جانب سے گھر میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی گئی تھی۔ اہلخانہ کی جانب سے اس حوالے سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ کئی عرصے سے گھریلو پریشانیوں کا شکار تھیں۔ والدین کی جانب سے علیحدگی کے بعد دوسری شادی بھی کرلی گئی تھی۔ ان تمام مسائل اور وجوہات کی بنا پر وہ کافی ذہنی مسائل کا شکار تھیں۔ جبکہ وہ اپنے والد کے ساتھ مقیم تھیں اور مذکورہ گھر میں 15 دن قبل ہی شفٹ ہوئیں تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خودکشی کرنے سے قبل گھر میں ڈاکٹر ماہا شاہ اور ان کے والد کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔

یاد رہے ڈاکٹر سیدہ ماہا شاہ کے والد میرپور خاص میں واقع مزار گرھوڑ شریف کے گدی نشین تھے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

6 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago