نوجوان ڈاکٹر حفضہ خان نے بچوں کی تعلیم کیلئے کینٹینر میں اسکول بنالیا

تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے جس کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ہماری حکومتیں اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً پچیس ملین (یعنی ڈھائی کروڑ) بچے اسکول نہیں جاتے۔اگر اس مقصد کے لیے انفرادی کوششوں کی بات کریں تو بطور معاشرہ یہ ہمارا امتحان کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک سمجھتے اور پورا کرتے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن ڈاکٹر حفضہ خان نے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھا اور وہ جھگی میں رہنے والے غریب بچوں کو تعلیم سے روشناس کروارہی ہیں اور ان کے لئے مسیحا بن گئیں ہیں۔

Image Source: Twitter

ڈاکٹر حفضہ نے چھ برس پہلے جب ان جھگی کے بچوں کو تعلیم دینے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس کوئی جگہ کوئی بلڈنگ نہیں تھی، انہوں نے اپنے اس اسکول کی بنیاد ایک کیمپ میں رکھی۔

ان غریب بچوں کو پڑھنے لکنھے کا شوق تھا اس لئے اسکول کا آغاز ہوتے ہی وہ اسکول آنا شروع ہوگئے۔ فضا بتاتی ہیں کہ بارشیوں اور سخت گرمی میں کیمپ میں بچوں کو پڑھانا مشکل ہوجاتا تھا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، دیکھتے دیکھتے ان کے ساتھ اس کارواں میں ان کے دوست بھی شامل ہوگئے اس طرح ان بچوں کو پڑھے لکھے اساتذہ بھی مل گئے۔

Image Source: Twitter

ڈاکٹر حفضہ کے مطابق شروعات میں یہ بچے معاشی تنگدستی کے باعث اکثر بھیک مانگنا شروع کردیتے تھے لیکن اب یہ سب طالبعلم پُرامید ہیں کہ تعلیم جلد ان کے حالات بدل دے گی کیونکہ ان بچوں کا یہ کیمپ نما اسکول اب ایک کینٹینر اسکول میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں لائٹ ، پنکھے ، چیئر اور ڈیکس سمیت تمام تر سہولیات موجود ہیں۔اس اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ان بچوں کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

Image Source: Twitter

یہ بچے اپنے اسکول کو بہت پسند کرتے ہیں اور شوق سے اسکول آتے ہیں ، کوئی بچہ ڈاکٹر بن کے اپنی جھگیوں کے غریب لوگوں کا مفت علاج کرنا چاہتا تو کسی کو ماہر تعمیرات بن کر اپنے والدین اور بستی کے دیگر بے گھر لوگوں کے لئے پکے گھر بنانے کی خواہش ہے۔

ان بچوں کی مسیحا ڈاکٹر حفضہ چاہتی ہیں کہ وہ ان بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم بھی دیں اور انہیں فری لانسنگ اسکلز سکھائیں تاکہ یہ بچے آگے چل کر اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنا مقام بنائیں اور اپنے خاندان کو غربت کے اندھیروں سے نکل سکیں۔

ڈاکٹر حفضہ کی طرح سندھ یونیورسٹی جامشورو کے طالب علم اور حیدرآباد کے رہائشی جنید کھوسو بھی تعلیم سے محروم بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے ایک منفرد آئیڈیا پر کام کررہے ہیں اور وہ ان غریب بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں جو غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جاتے تھے اور سڑکوں پر کھیل کود میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے تھے۔ ان بچوں کو پڑھانے کے لئے انہوں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر 7 سال پہلے خیمہ اسکولوں کی بنیاد رکھی تھی اور حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں ایک خیمہ اسکول قائم کرکے ان بچوں کو تعلیم دینا شروع کی تھی۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago