ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہوریوں کو جاہل اور عجیب قرار دے دیا

چین کے شہر وہان سے پھلنے والی وباء اس وقت پوری دنیا کو تقریباً اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ وباء کے پھلنے کے خدشے کے پیش نظر پوری دنیا کو پچھلے کئی عرصے سے لاک ڈاؤن کی صورتحال کا سامنا ہے۔ جبکہ اب صورتحال اب پاکستان میں بھی کافی خراب ہوچکی ہے۔ پاکستان کا شمار کورونا سے متاثرہ چند بڑے ملکوں ہونے لگا ہے یہاں پر بھی جزوی لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے۔ حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس وباء کو روکا جاسکے۔ البتہ ابھی تک عوام کی جانب سے اس مسئلے میں سنجیدگی بظاہر نظر نہیں آتی ہے اور کئی لوگ اب بھی آزادنہ طور پر پرانی زندگی بسر کررہے ہیں۔

اس ہی حوالے سے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی اپنے حالیہ دیے گئے انٹرویو میں عوام کے روئیے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ حکومت کی جانب سے دیے گئے ایس او پیز کو نظر انداز کررہے ہیں۔ جبکہ حکومت نے کورونا وائرس کے روک تھام کے حوالے سے سخت اقدامات کئے البتہ اب بھی لوگ اس مسئلے کو سنجیدہ طور پر نہیں لے رہے ہیں۔

ساتھ ہی ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے دیئے گئے ٹی وی انٹرویو میں لاہوریوں کو اللہ تعالیٰ کی ایک منفرد مخلوق قرار دے دیا ۔ ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ لاہوری کسی معاملے میں کسی کی سننے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم لوگوں پر سخت لاک ڈاؤن مسلط کرتے ہیں تو یہ تعصور دیا جاتا ہے کہ ہم لوگوں پر ظلم و جبر کررہے ہیں البتہ اگر ہم لاک ڈاؤن پر نرمی کرتے ہیں تو وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار پھر گورنمنٹ کو قرار دیا جاتا ہے۔ لہذا حکومت اب اس مسئلے پر کیا کرے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا اپنے دیے گئے انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ ہم نے لوگوں پر سوا مہینے ذمہ داری چھوڑ کر نتائج دیکھ لئے ہمیں لگا کہ عوام اپنی ذمہ داری کو سمجھے گی اور اس مسئلے پر سنجیدہ ہوجائے گی البتہ نتائج برعکس آئے ہیں اب ہم تمام تر معاملات ایک بار پھر اپنے ہاتھ میں لینے جارہے ہیں۔

جبکہ اس ہی انٹرویو میں انہوں وزیر صحت نے اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں پروپیگنڈہ کررہیں ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ماسک پہننے کو کہا ہے لہذا ماسک نہ پہننا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی قوم میں اتنی جاہلیت ہو جتنی ہم پاکستانیوں نے کورونا وائرس کے دوران دیکھائی ہے۔ لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ ہم اسپتال نہیں جائیں گے کیونکہ وہاں کورونا وائرس کا انجیکشن لگایا جاتا ہے جس سے وائرس منتقل ہوجاتا ہے۔ اس پر لوگوں کا کیا کہا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا انٹرویو نشر ہونے کے دیر بعد ہی لاہور کی عوام کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک شدید ردعمل عمل دیکھنے میں آیا اور لوگوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے اس بات کا بھی عندیہ دیا گیا کہ کہ حکومت پنجاب اب سمارٹ لاک ڈاؤن کی جانب جارہی ہے۔ کچھ مخصوص علاقوں میں ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن کیا جائے گا جہاں تمام مارکیٹ وغیرہ بند رکھی جائیں گی البتہ ضروری استعمال کی اشیاء کی دوکانوں کھلی رہیں گی۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

7 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago