برطانیوی پارلیمنٹ کے باہر نصب گاندھی کا مجسمہ ہٹایا جائے۔ مظاہرین کا مطالبہ

سیاہ فارم امریکی شہری جارج فلائیڈ کے امریکی پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد سے امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

جبکہ یہ سلسلہ برطانیہ پہنچا تو احتجاجی صورتحال کی شددت تقریباً امریکہ جیسی تھی۔ بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے لندن کی سٹرکوں پر ہوئے جہاں نسل پرستی کو دنیا سے ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تاکہ پھر کبھی جارج فلائیڈ جیسا واقعہ رونما نہ ہوسکے۔

دوسری جانب نسل پرستی کو پروان چڑھانے اور اس کا حصے رہنے والے لوگوں کے خلاف بھی اب دنیا میں آواز بلند کی جارہی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے رنگ و نسل کی بنیاد پر تفریق کی حمایت کی اور نسل پرستی کی بنیاد پر ہونے والی زیادتیوں پر واسطہ اور بلاواسطہ حمایت کی۔

ان ہی نسل پرستانہ اور غاصبانہ سوچ رکھنے والوں میں ایک نام مہاتما گاندھی کا بھی ہے۔ جہنوں نے نسل پرستی کے ساتھ ہندو مذہب میں ذات پات یعنی کلاس سسٹم کی بنیاد پر تفریق کو اس مذہب کی خوبصورتی قرار دیا تھا۔ لہذا جب نسل پرستی کے خلاف مظاہرے لندن کی سٹرکوں پر پہنچے تو مظاہرین کی جانب سے ایک بڑا مطالبہ سامنے آیا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے باہر لگے مہاتما گاندھی کے مجسمے کو فوری طور پر ہٹایا جائے کیونکہ وہ نسل پرستی کے حامی تھے۔ ساتھ ہی مہاتما گاندھی کے خلاف ایک پیٹیشن بھی دائر کی گئی ہے جس پر اب تک تقریباً پانچ ہزار سے زائد افراد سائن کرچکے ہیں ۔ جس میں مطالبہ درج تھا ہے کہ مہاتما گاندھی ایک نسل پرستانہ سوچ کے حامل لیڈر تھے لہذا ان کا مجسمہ برطانوی پارلیمنٹ کے باہر سے ہٹادیا جائے۔

اس پورے واقعے کے بعد فلحال پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے مجسمے کے ارد گرد حفاظتی دیوار قائم کردی گئی ہے تاکہ مظاہرین کی جانب سے مجسمے کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔ اگرچہ اس مطالبے یعنی پیٹیشن میں سابق برطانوی وزیر اعظم وینسٹرل چرچل کا نام بھی شامل ہے کیونکہ کہ تاریخی اعتبار سے چرچل کو بھی ایک نسل پرستانہ لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔

واضح رہے اس قبل افریقی ملک گاہنا میں بھی مہاتما گاندھی کا مجسمہ مقامی لوگوں کی جانب سے اس ہی وجہ کے باعث گرادیا گیا تھا کہ وہ ایک نسل پرستانہ سوچ کے حامل تھے۔ جبکہ امریکی درالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بھارتی سفارت خانے کے پاس نصب مجسمے پر بھی مظاہرین کی جانب سے رنگ پہنکا گیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

3 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago