برطانیہ میں مسلم نوجوان کا پسند کی شادی کیلئے انوکھا اقدام

کہتے ہیں شادی کا لڈو جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھائے، ایسا ہی ایک نوجوان برطانیہ میں مقیم ہے جو اور اپنی چاہی لڑکی سے شادی کا خواہشمند ہے کئی کوششوں کے باوجود اب تک ان کی ’’دلی مراد‘‘ پوری نہیں ہوسکی جس پر نوجوان نے ایک انوکھا طریقہ کار اختیار کیا اور شہر بھر میں اپنی ہنستی مسکراتی تصویر کے بڑے بڑے بل بورڈز آویزاں کردئیے۔

انتیس سالہ محمد ملک پنجابی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور برطانوی دارالحکومت لندن میں انوویشن کنسلٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور اپنا کاروبار بھی چلا رہے ہیں۔ محمد مالک نے من پسند بیوی کی تلاش کے لیے ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ‘ مجھے ارینج میرج سے بچاؤ’، بل بورڈ میں ان کی مسکراتی ہوئی تصویر بھی ہے۔

محمد مالک کا کہنا ہے کہ بل بورڈ لگانے کا مشورہ اُن کے ایک دوست نے دیا کہ اور پھر انہوں نے اپنی تشہیر کی۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ارینجڈ میرج کے خلاف نہیں ہے تاہم وہ چاہتے ہیں کہ اپنی بیوی وہ خود تلاش کریں۔ تاہم اگر وہ خود تلاش میں ناکام ہو گئے تو پھر اپنے ماں باپ کو دلہن تلاش کرنے کے لیے کہہ دیں گے۔ محمد مالک کو ایک ایسی ساتھی کی ضرورت ہے جس کی عمر 20 سے 25 کے درمیان ہو اور وہ دین کے بارے میں علم رکھتی ہو۔

نوجوان نے بل بورڈ پر اپنی ویب سائٹ کا ایڈریس دیا جو انہوں نے شریک حیات کی تلاش کے لیے بنائی ہے جس کا نام فائنڈ ملک اے وائف ڈاٹ کام یعنی مالک کے لیے دلہن ڈھونڈیں۔ اس ویب سائٹ پر انہوں نے اپنی تفصیلات بھی شائع کیں ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں اس لیے میری بیوی کو میرے ماں باپ کا خیال رکھنا ہوگا، میں نے لڑکی ڈھونڈنے کے لیے اس طریقے کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ رشتہ ڈھونڈنے کے لیے رشتہ آنٹی والا روایتی طریقہ مجھے راس نہیں آرہا تھا۔

محمد مالک کے مطابق یہ بل بورڈز 14 جنوری تک لگے رہیں گے اور اُن کے والدین نے ان بورڈز کی حمایت کی ہے تاہم وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں اپنی والدہ کو قائل کرنے میں تھوڑا وقت لگا تھا۔ بل بورڈز لگانے کے بعد ان کو کئی پیغامات موصول ہوئے ہیں اور انہیں امید ہو چلی ہے کہ اس ترکیب سے کام بن جائے گا۔

آج کل وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی تبدیلیاں دیکھانے میں آرہی ہیں جیسے کہ پہلے لڑکے لڑکیوں کے رشتے زیادہ تر خالہ، پھوپیوں اور رشتہ آنٹیوں کے ذریعے ہی طے پاتے تھے، لیکن چند برسوں میں اس حوالے سے کافی تبدیلی آئی ہے اور اب اکثر یہ سُننے کو ملتا ہے کہ کسی کا رشتہ فیس بک گروپ کے ذریعے ہو گیا یا کسی نے خود اپنے پارٹنر کو کسی آن لائن فورم پر پسند کیا ہے بلکہ اب تو رشتوں کے لئے باقاعدہ آن لائن سروسز بھی موجود ہیں جو گھر بیٹھے اچھے رشتے بتاتی ہیں۔

حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ پر کراچی سے تعلق رکھنے والا ایسا ہی ایک نوجوان جوڑا سامنے آیا ہے جس میں لڑکی لڑکا مشہور ڈیٹنگ ویب سائٹ’ ٹنڈر’ پر ملے، ایک دوسرے کو پسند کیا اور دونوں کی شادی ہوگئی۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago