بلیک میل نہ کیا جائے، تدفین کرے، فوراً کوئٹہ آجاؤں گا، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے جمعے کے روز ایک بار پھر سے ہزارہ برادری سے اپیل کردی ہے کہ سانحے مچھ میں شہید ہونے تمام مزدوروں کے جنازوں کی تدفین کردی جائے۔ آن کی آمد تک لاشوں کو نہ دفنا کر بلیک میل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں اسپیشل اکنامک زونز کی لانچنگ کی تقریب کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ مچھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ “ہم نے دھرنے کے شرکاء کے تمام مطالبات مان لئے ہیں، لیکن ان شرائط میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ شہداء کی تدفین اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وزیراعظم عمران خان نہیں آجاتے ہیں۔ اس حوالے انہوں نے تمام شرکاء کو پیغام بھجوادیا ہے کہ آپ کی تمام شرائط قبول کرلی گئیں ہیں، لیکن آپ کسی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کو پھر آئندہ ہر کوئی ایسے بلیک میل کرے، خاص طور پر ڈاکوؤں کا ایک ٹولہ ڈھائی سال سے کرپشن کیسسز معاف کروانے کے لئے بلیک میل کررہا ہے، لہذا مظاہرین کو بتا دیا گیا ہے کہ جوں ہی تمام شہداء کی تدفین ہوگی، وہ فوراً کوئٹہ کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم کے مطابق لواحقین آج تدفین کریں، میں گارنٹی دیتا ہوں کہ آج ہی کوئٹہ پہنچتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیئے جانے والے اس بیان پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر وزیراعظم کے اس بیان کو عوام کی طرف سے کافی ناپسند کرتے ہوئے، اس بیان کو نامناسب قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے اتوار کے روز بلوچستان کے علاقے مچھ میں دہشتگردی کا ایک ہولناک واقعہ پیش آیا تھا، جہاں مسلح دہشتگردوں نے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 11 افراد کو فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کردیا تھا، قتل ہونے والے تمام افراد کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔ جبکہ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

اس واقعے کے بعد سے لیکر اب تک کوئٹہ میں ہزارہ برادی کے افراد پچھلے چھے روز سے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ جبکہ سانحہ کوئٹہ کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے، احتجاج کا سلسلہ کراچی میں بھی جاری ہے، پولیس کے مطابق تقریباً 19 مقامات پر کراچی میں دھرنا جاری ہے۔

Image Source: Twitter

خیال رہے کوئٹہ کی ہزارہ برادری پر دہشتگردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی بار ہزارہ پر دہشتگردوں نے انہیں اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلی دو دہائیوں میں ہزارہ برادری کے 2 ہزار کے قریب لوگوں کو دہشتگردی کے مختلف واقعات میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

دھرنے میں موجود مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد مجرمان کو پکڑا جائے اور انہیں فوری انصاف فراہم کیا جائے گا۔ جبکہ آئندہ اس طرح کے واقعات پھر سے نہ ہو، اس کو یقینی بنایا جائے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago