ارمینا رانا خان نے ‘عورت مارچ ‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کردیا

پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی برطانوی نژاد پاکستانی اداکارہ ارمینا رانا خان نے 2020 میں اپنے منگیتر فیصل خان سے شادی کرلی تھی اور اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں تھیں۔ برطانیہ جانے کے بعد سے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مداحوں سے رابطے میں رہتی ہیں جبکہ اکثر وبیشتر انہیں اپنی پوسٹ اور بیانات کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔

حال ہی میں ارمینا رانا خان نے ایک صارف کے سوال پر ‘عورت مارچ’ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور عورت مارچ کے ناقدین کے لیے خواتین کے پلیٹ فارم کی اہمیت بیان کردی۔

Image Source: Instagram

ارمینا کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک صارف کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ عورت مارچ ان خواتین کی زندگیوں میں کیسے تبدیلی لاسکتی ہے جو واقعی مظلوم ہیں اور گھر، دفاتر یہاں تک کہ اسکولوں اور مدارس میں ہراساں کی جاتی ہیں بلکہ غیرت کے نام پر قتل و زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ صارف نے مزید کہا کہ جو شخص اپنی بیٹی کو بے دردی سے قتل کرتا ہے وہ کسی بھی طرح سے اس مارچ سے متاثر نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: ملک کی وہ باہمت خواتین جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا

اداکارہ نے اس بات کا جواب تفصیل سے دیا اور لکھا کہ یہ احتجاج سماجی و سیاسی تبدیلی لانے کے لیے ایک تاریخی طریقہ کار ہے اور میرے خیال میں اس حوالے سے معاشرے میں صرف مرد ہی حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ قتل، عصمت دری، اور عورتوں اور لڑکیوں کے بنیادی انسانی حقوق سے انکار ناقابل قبول ہے، ہم اس پر اتفاق کرسکتے ہیں کہ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہم اس پر متفق ہو سکتے ہیں لیکن، ہر کوئی اس تبدیلی کو نہیں سمجھتا، اس لیے ہم اس بات سے اتفاق کرسکتے ہیں کہ اسے وسیع سطح پر پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اپنی پوسٹ کے اختتام کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ جہاں تک بات ہے کہ مراعات یافتہ اور تعلیم یافتہ خواتین عورت مارچ کا حصہ ہیں کیونکہ وہ خواتین ہیں ، ان کی سماجی حیثیت انہیں نااہل نہیں کرتی۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جناح کو پاکستان کے قیام کے لیے مارچ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ ایک مغربی، پڑھے لکھے، مراعات یافتہ آدمی تھے جن کا برصغیر کے ایک غریب مسلمان کے ساتھ کوئی میل نہیں تھا۔

Image Source: Instagram

خیال رہے کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ہرسال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں مارچ منعقد کیے جاتے ہیں۔ ہر سال ہی یہ عورت مارچ کئی حوالوں سے حمایت کے ساتھ تنقید کا نشانہ بھی بنتا ہے اور سوشل میڈیا پر تو اس حوالے سے مختلف آراء کی بھرمار نظر آتی ہے۔ حالیہ دنوں میں عورت مارچ پر اداکارہ و میزبان وینا ملک نے بھی بیان جاری کر دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ عورت مارچ خواتین کی مدد نہیں کرتا بلکہ تنازعات کو ہوا دیتا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago