ایک ہی خاندان کے تین افراد نہر میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے، ویڈیو وائرل

اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جو بھی چیز پیدا ہوئی ہے، اس نے ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ایک جاندار کی موت کب اور کیسے ہوگی؟ انسان کو اس بھی علم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں تلقین کی جاتی ہے کہ اپنے اعمالوں کو اچھا اور نیک رکھا جائے۔ کب خدا تمھیں اپنے پاس واپس بلالے۔ انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس کی بڑی مثال حال ہی میں دیکھی گئی، جہاں ایک فیملی پکنک منانے گئی تھی، لیکن وہاں خوفناک حادثے نے اس خاندان کا سب کچھ ہی گویا چھین لیا ہو۔

تفصیلات کے مطابق ایک فیملی کسی پانی کے مقام پر پکنک منانے کی غرض سے گئی تھی کہ اچانک نہر میں تیراکی کرتے ہوئے ایک شخص ڈوبنے لگا، جس بچانے کے لئے موقع پر موجود بیوی نے پانی میں چھلانگ گئی لیکن جب بیٹے نے ماں اور باپ کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو اس نے بھی انہیں بچانے پانی میں چھلانگ لگادی لیکن بدقسمتی سے واقع میں تینوں ہی شخص ڈوب گئے۔

Image Source: Screengrab

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق ایک بچہ ویڈیو بنا رہا ہے، جبکہ اس کے والد پانی میں تیراکی کر رہے ہیں، تاہم اس دوران بچے کی چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی ہے، کیونکہ اس کے والد پانی میں ڈوب رہے ہوتے ہیں، لہذا اس کی والدہ دوڑتی ہوئی پانی کی جانب جاتی اور شوہر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں لیکن وہ بھی پانی میں پھنس جاتی ہے، جس پر بڑا بیٹا فوراً پانی میں والدین کو بچانے کود جاتا ہے اور سب کے بعد کیمرہ کا رخ زمین کی طرف ہوجاتا ہے اور چھوٹا بیٹا جو ویڈیو بنا رہا ہوتا ہے، اس کے رونے اور چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

اگرچے اس واقعے کی جگہ کی تاحال کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ یہ کونسا مقام ہے اور آیا ڈوبنے والوں میں کوئی شخص زندہ بچا بھی ہے یا نہیں۔

یقیناً یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، خاص کر اس بچے کے لئے جو اس وقت وہاں پر موجود تھا اور اپنے والدین اور بھائی کو ڈوبتے ہوئے دیکھا رہا تھا۔ آخر کب لوگ یا انتظامیہ مدد کے لئے بچے کے پاس پہنچی، اس کا ابھی کسی کو بھی معلوم نہیں ہے، لیکن وہ وقت اس معصوم نے وہاں کس طرح اور کس خوف سے گزارا ہوگا، اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔

بلاشبہ سیر وتفریح کے مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات ہونا چاہئے، یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے، بحیثیت شہری ہم بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے ہیں، اگر کہیں انتظامیہ موجود بھی ہوتی ہے، تو ہم ان کی باتوں اور ہدایات پر عمل نہیں کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ اس طرح کے حادثات کی صورت میں آتا ہے۔ برائے مہربانی کہیں بھی پکنک پر جائیں، تو انتظامیہ ہدایات پر مکمل عمل کریں اور ایسے کسی مقام کا کبھی انتخاب نہ کریں، جہاں پر انتظامیہ موجود نہ ہے۔ کیونکہ زندگی ایک بہت انمول تحفہ ہے۔ زندگی دوبارہ موقع فراہم نہیں کرتی۔

یاد رہے گزشتہ برس امریکہ کے شہر نیویارک میں نوبیاہتا پاکستانی نژاد امریکی جوڑا بہاماس نامی ٹورسٹ جزیرے پر ہنی مون منانے کے دوران سمندر کی بے رحم لہروں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوگیا تھا۔ جوڑے کی شناخت محمد ملک اور ڈاکٹر نور شاہ کے نام سے ہوئی تھی۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago