اداکارہ کبریٰ خان کینسر سے کیسے بچیں؟

کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کا نام سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تاہم اگر اس کی تشخیص بروقت ہو جائے تو انسان کا زندہ بچنا ممکن ہو جاتا ہے لیکن ایسے خوش قسمت لوگوں کی تعداد کم ہی ہوتی ہے، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اداکارہ کبریٰ خان کا شمار ایسے ہی خوش قسمت لوگوں میں ہوتا جو اس مرض کی بروقت تشخیص سے اس موذی مرض کا شکار ہونے سے بچ گئیں۔

ڈرامہ سیریل ‘صنف آہن’ ماہ جبین کا اہم کردار ادا کرنیوالی اداکارہ کبری خان نے بتایا کہ اس سال جنوری میں انہیں کینسر کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے ایک انٹرویو میں اداکارہ نے پہلی مرتبہ اپنی ذاتی زندگی اور کینسر کو شکست دینے کے متعلق بات کی ،کبری خانٰ کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر کافی تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

Image Source: Instagram

انٹرویو میں کبریٰ نے بتایا کہ پچھلے دو سے تین سال اُن کی زندگی کے بہت مشکل رہے ہیں، ایک تو کورونا وائرس نے بہت پریشان کیا ہوا تھا دوسرا جب وہ اپنی فیملی کے پاس لندن گئیں تو چیک اپ کے دوران کینسر کی تشخیص ہوئی۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے جسم پر ’گِلٹی‘ نکل آئی ،جس کا ہنگامی بنیادوں پر آپریشن کرنا پڑا۔ اس گلٹی کو دیکھنے کے بعد ڈاکٹرز کی جانب سے کہا گیا کہ ممکنہ طور پر یہ کینسر ہے، تاہم اس کی تصدیق آپریشن اور ’بائیوپسی‘ ٹیسٹ کے بعد ہوگی۔ بعد ازاں ہنگامی بنیادوں پر آپریشن کرکے ’گِلٹی‘ کو نکال دیا گیا اور اللہ کا شکر ہے کہ ٹیسٹ میں کینسر کی تشخیص نہیں ہوئی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ سرجری کروانے کے بعد ان کا وزن بڑھ گیا تھا لہٰذا جب وہ پاکستان واپس آئیں تو لوگوں نے ان سے سبب پوچھے بغیر سوشل میڈیا پر تنقید کرنا شروع کردیں، یہاں تک کہ شوبز کے لوگ میرے سامنے ہی میرے وزن سے متعلق باتیں کرتے ، مجھے طعنے دیتے تھے مگر میں کیسے بتاتی کہ مجھ پر کون سی قیامت گزری ہے۔

انٹرویو میں کبریٰ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ بہت پتلی دبلی رہی ہیں، اُن کا وزن کبھی 48 کلو سے اوپر نہیں گیا مگر جب اُنہیں صحت سے متعلق کئی مشکلیں جھیلنا پڑیں تو وہ موٹی ہوگئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ٹیومر کے آپریشن کے بعد نہ واک کر سکتی تھیں اور نہ ہی ڈائٹ کیوں کہ اُنہیں بہت ادویات لینی پڑتی تھیں مگر لوگوں کی نفرت زدہ باتیں سُن سُن کر اور بہت مشکلیں جھیل کر آخر کار انہوں نے اپنا وزن پھر سے کم کر ہی لیا۔

کبریٰ نے مزید کہا کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ میں نے جو جنگ جیتی تھی اس میں کن مشکلات سے گزرنا پڑا، لوگ صرف وزن کی وجہ سے مجھے نیچا دکھانے میں دلچسپی رکھتے تھے اور اس باڈی شیمنگ سے میرا اعتماد بری طرح متاثر ہوا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago