ماجد جہانگیر مالی بدحالی کا شکار صدر اور وزیر اعظم سے امداد کی اپیل

پی ٹی وی کے مزاحیہ پروگرام ‘ففٹی ففٹی’ کے معروف اداکار ماجد جہانگیر جو کہ فالج کے علاوہ کئی دیگر امراض میں مبتلا ہیں نے اپنے علاج معالجے کے لئے صدر اور وزیراعظم پاکستان سے مالی امداد کی اپیل کردی ہے۔

سینئر اداکار ماجد جہانگیر جو 11 زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، سندھی زبان میں کئی ڈرامے کیے، چار پاکستانی فلموں اور پینتیس سے زائد اسٹیج شوز اور ریڈیو ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور جنہوں نے تقریباً 50 سال ٹی وی کےلیے خدمات سر انجام دیں آج کسمپرسی کی حالت میں بے یارو مددگار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Image Source: Screengrab

نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تنگ دستی کی وجہ سے وہ فالج اور دیگر امراض کے علاج کے لیے ادویات تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے فنی خدمات پر تمغہ امتیاز تو دیا گیا لیکن مالی امداد نہیں کی گئی جبکہ نواز شریف حکومت نے ان کی امداد کی تھی۔

مزید پڑھیں: شوبز انڈسٹری سے منسلک مشہور نام آج انڈہ پراٹھہ بیچنے پر مجبور

ماجد جہانگیر نے بتایا کہ انہیں ماہانہ ادویات کے لیے 30 ہزار وپے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ فزیو تھراپی اور ڈاکٹر کے معائنے کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے مالی امداد کا اعلان کیا لیکن کچھ نہیں ہوا، اس لئے وہ وزیر اعظم عمران خان اور صدرِ پاکستان سے مالی تعاون فراہم کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں کے فنڈز سے ان کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے تاکہ وہ اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی خریداری کرسکیں۔

Image Source: Screengrab

اداکار نے بتایا کہ ان کے والدین، بھائی اور اہلیہ دنیا سے جا چکے ہیں، مشکل وقت میں کچھ دوست ہیں جو مدد کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ملک ریاض کی جانب سے ملنے والے گھر کے پڑوسی اور ان کے اہلخانہ ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتے ہیں جبکہ کراچی میں وہ ایک دوست کے فلیٹ پر قیام کرلیتے ہیں۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اگر حکومت نے ماجد جہانگیر کی مالی مدد نہیں کی اور ان صحت کے حوالے سے غفلت برتی تو ان کی زندگی بھی عمر شریف کی طرح ختم ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو پاکستان کے لیجنڈری کامیڈین عمر شریف جرمنی کے ایک اسپتال میں اس وقت انتقال کر گئے جب انہیں ایک ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے امریکہ لے جایا جا رہا تھا۔ عمر شریف کافی عرصے سے علیل تھے لیکن ان کی بیماری کے بارے میں سب لاعلم رہے اور جب انہوں نے حکومت سے امریکا میں علاج کروانے کی اپیل کی تو تب تک ان کی حالت تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی تھی۔

Story Courtesy: Nicelifestyle

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago