Categories: کتابیں

“اچھی بیوی” سے متعلق بیان پر قاسم علی شاہ کو تنقید کا سامنا

ہماری عورت کو اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں پڑھایا نہیں جاتا “ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ماہر تعلیم، معروف موٹیویشنل اسپیکر اور لکھاری قاسم علی شاہ نے اپنی ایک ویڈیو کلپ میں کیا، 36 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد سے قاسم علی شاہ کا یہ بیان سوشل میڈیا پر زیرِبحث ہے۔

وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ میں موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے کہا کہ آپ کسی اسکول میں چلے جائیں، جہاں بچیاں پڑھتی ہیں میٹرک کی ڈگری تک، اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔

مذکورہ ویڈیو کلپ میں اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالانکہ عورت کی زندگی میں دو کرداروں کی بہت اہمیت ہے، جن میں سے ایک کردار ہے اچھی بیوی کا اور دوسرا اچھی ماں کا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول میں کہیں نہیں پڑھایا جاتا، کالج میں نہیں پڑھایا جاتا اور یونیورسٹی میں بھی بالکل بھی نہیں پڑھایا جاتا اور جو ذریعہ باقی رہ گیا کہ اچھی ماں اور اچھی بیوی کیا ہوتی ہے، تربیت کا وہ ذریعہ گھر ہے، یعنی بچی اپنی ماں کو دیکھے۔

یہ ایک المیہ ہے کہ یہ معاشرہ ایک عورت کو بنیادی طور پر ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے دیکھتا ہے، مگر انسان کی حیثیت سے نہیں اور اگر ہماری معاشرتی سوچ یہ ہے تو ہم بحیثیت معاشرہ کیسے ترقی کرسکتا ہیں؟ کیا معاشرے کی کامیابی کی ضمانت کا معیار صرف عورت کے لئے اچھی بیوی بننا ہے؟ کیا ایک عورت اس دنیا میں صرف اچھی بیوی اور اچھی ماں یہی دو کردار نبھانے کے لیے آئی ہے قاسم علی شاہ کے ویڈیو کلپ کے بعد یہ تمام سوالات آجکل سوشل میڈیا پر زیرِبحث ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین نے قاسم علی شاہ کے اس بیان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ایک صارف نے لکھا کہ کیا عمران خان (تعلیمی اداروں میں) ’پرفیکٹ بیوی 101‘ کے نام سے ایک نیا مضمون متعارف کروا سکتے ہیں۔ اور جب ہم لڑکیاں یہ مضمون پڑھ رہی ہوں گی تو اُس وقت لڑکے کھیلوں کی کلاس میں جا سکتے ہیں کیونکہ وہ تو پرفیکٹ ہیں۔

ماہر تعلیم ،دانشور اور مصنف قاسم علی شاہ جن کے زیر سرپرستی اس وقت کئی اسکول اور فاؤنڈیشن میں درس و تدریس کا عمل جاری ہے اور جن کے لیکچرز سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، ان کے اس بیان کے بعد یہ مداح بھی ناخوش نظر آتے ہیں اور انہوں نے قاسم علی شاہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اگر لڑکیوں کو اسکول میں اچھی بیوی اور اچھی ماں بننا نہیں سکھایا جاتا تو لڑکوں کو بھی تو اچھا شوہر اور اچھا باپ بننا نہیں سکھایا جاتا۔

بلاشبہ کسی بھی معاشرے کو تشکیل دینے میں خاندان ایک بنیادی اکائی ہےلیکن اس میں ساری ذمہ داری عورت پر عائد کرکے صرف اسے اچھی بیوی بننے کا درس نہیں دینا چاہئے کیونکہ ہم معاشرے میں مرد کے کردار کو فراموش نہیں کر سکتے۔ ضروری ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کو بھی گھر اور درس گاہوں میں ان کے کردار سے متعلق تعلیم دی جائے تبھی ہمارا معاشرہ مثبت طریقے سے پنپ سکتا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago