بااثر خاتون دن دہاڑے پولیس اہلکار کو سنگین نتائج کی دھمکی

ہمارے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی خدمات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے، ان کا اس ملک کی تعمیر اور ترقی میں بڑا اہم کردار ہے۔ یہی وجہ ہے ان قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی آج پوری دل و جان سے عزت کرتی ہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جن کے پاس تھوڑا پیسہ اور طاقت کیا آجاتی ہے وہ اپنے آپ کو خدا اور سامنے والے کو غلام تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہ معاشرے کے اتنے بزدل لوگ ہوتے ہیں کہ ان کی طاقت کا زور ہمیشہ کمزور لوگوں پر ہی چلتا ہے۔

ایسا ہی ایک کمزوری اور بزدلی کا واقعہ پنجاب میں پیش آیا جہاں ایک ڈیوٹی پر مامور ٹریفک پولیس وارڈن کی جانب سے ایک بااثر کار سوار خاتون کو روکا گیا۔ جس پر خاتون ہتے سے اُکھڑ گئیں پولیس اہلکار کے لئے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور پولیس اہلکار کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی۔

اس ویڈیو میں مزید دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار عاجزانہ انداز میں خاتون سے مخاطب ہے جبکہ خاتون کا روائیہ انتہائی بدتمیزی اور بد لحاظی پر مبنی ہے۔ خاتون مستقل کسی کو فون ملا رہیں ہیں اور پولیس اہلکار کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتی ہیں۔ اس تمام دھمکیوں اور بدتمیزیوں کو دیکھتے ہوئے پولیس اہلکار وائرلیس فون کے ذریعے خاتون پولیس کو بھیجنے کی درخواست کرتا ہے، جس پر بااثر خاتون کی جانب سے پولیس اہلکار کا وائرلیس فون بھی چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ واضح رہے یہ وائرلیس فون سرکار کی ملکیت ہے جو پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران دیا جاتا ہے۔

تاہم اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے، جس پر ناصرف شہریوں کی جانب سے خاتون کی بدتمیزی کی مذمت کی جاتی یے بلکہ کاروائی کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وہیں پنجاب پولیس بھی اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد حرکت میں آتی ہے اور اس با اثر خاتون پر مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے جس میں سرکاری معاملات میں دخل اندازی، اہلکار کی وردی کی تضحیک اور روڈ پر راستہ بند کرنے جیسے چارج لگائے گئے ہیں۔

یاد رہے گزشتہ کئی برسوں میں طرح کی واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، شاید ایسے واقعات پہلے بھی ہوا کرتے ہوں لیکن اب سوشل میڈیا کا دور ہے تو یہ واقعات جلدی رپورٹ ہوجاتے ہیں اور ان پر مقدمہ بھی درج ہوجاتے ہیں۔ تاہم یہاں پر بنیادی سوال یہی بنتا ہے کہ ایسے واقعات آخر کیوں رونما ہورہے ہیں، کیا ہمارے لوگ اخلاقی اعتبار سے اچھے اور برے کی تمیز بھولتے جارہے ہیں؟ یہاں پر صرف یہی کہا جاسکتا ہے اس معاملے پر حکومت کو چاہئے کہ سخت سے سخت قانون سازی کرے، جو بھی شخص پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کرے اور بااثر شخص ہونے کی دھمکی دے، اس کے خلاف سخت کارروائی ہو تاکہ وہ دوبارہ غلطی کرنے پر یہ نہیں کہہ سکے کہ وہ کوئی بااثر شخص ہے یا کسی بااثر شخص سے تعلقات رکھتا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago