کبھی میں اور کبھی تم کے بارے میں دلچسپ حقائق

ڈرامہ سیریل ‘کبھی میں کبھی تم’ نے نہ صرف شہرت کی بلندیوں کو چھوا بلکہ پاکستانیوں کے ساتھ بھارتیوں کو بھی اپنا متوالا بنائے رکھا۔

ڈرامہ خوشگوار موڑ کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے، اور اس ڈرامے کے چاہنے والے یقیناً پورے ہفتے اس کی قسط کا انتظار کرتے تھے۔

‘کبھی میں کبھی تم’ ایک ایسا ڈرامہ جسے پاکستان اور بھارت سمیت دیگر ممالک میں بھی بے انتہا شوق سے دیکھا گیا اور اس کی مقبولیت کے آگے کوئی دوسرا ڈراما ٹھہر نہ پایا۔ سرحد پار بھی ڈرامے کی مقبولیت کچھ کم نہیں جس کا اندازہ کمنٹ سیکشن دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔

چار مہینے ٹی وی اسکرینز پر پیر اور منگل کی رات نشر ہونے والے اس ڈرامے کی منفرد کہانی اور تمام ادکاروں کی حقیقت پسند اداکاری اسے سپر ہٹ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی دکھی اور یہی وجہ ہے کہ ڈرامے کا اختتام اچھے موڑ پر ہونے کے باوجود فینز مایوس ہیں کیونکہ اب وہ پیر اور منگل کی مصطفیٰ اور شرجینا کی زندگی کی نئی اپ ڈیٹ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

ٹی وی سے ہٹ کر بات کی جائے تو صرف یوٹیوب پر اس کی ایک ایک قسط پر کروڑوں ویوز آتے ہیں۔

ڈرامے کا اختتام اگرچہ فینز کی پیر اور منگل کی راتوں کو ویران کر گیا لیکن کسی ڈرامے کا اختتام فینز کی خواہش کے مطابق ہوجانے سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا اور ‘کبھی میں کبھی تم’ کا اختتام بھی فینز کی خواہش کے عین مطابق ہوا۔

Shoking Facts About Kabhi Main Kabhi Tum

ایک لاابالی لڑکے کی ایک سنجیدہ لڑکی سے محبت کی یہ کہانی ہے جو دیکھنے والوں کو بھولنے سے نہیں بھولے گی۔

اس  ڈرامے میں کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں ایسی ہیں جو اس ڈرامے کے شایقین کو یقیناً دلچسپ لگیں گی۔

ڈرامہ کراچی کے علاقے سندھی مسلم سوسائٹی کے ایک پرانے بنگلے میں شوٹ کیا گیا،یہ گھر وہ ہے جو مصطفیٰ کے والد کا دکھایا گیا تھا، شوٹنگ کے وقت گھر کے باہر ایک وینیٹی وین موجود رہا کرتی تھی۔

اس گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک چائے کا ہوٹل ہے جس میں ڈرامے کے کئی سین شوٹ ہوئے، ان سینز میں مصطفیٰ اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ لڑاتے ہوئے دکھائی دیا۔

ڈرامے کے ایک سین میں مصطفیٰ شرجینا کو گھمانے ایک ایسی جگہ لے جاتا ہے جو پہاڑی جیسا منظر پیش کرتی ہے، یہ جگہ کراچی کے مشہور کڈنی ہل پارک کی ہے جہاں سے شہر کا ایک بڑا حصہ نظر آتا ہے، یہیں پر بارش کا سین شوٹ ہوا تھا۔

:مذید پڑھیئں

کبھی میں اور کبھی تم”کے وہ خاص لمحات گنہیں لوگوں نے اپنا گرویدہ بنالیا۔

ڈرامے میں مصطفیٰ کی بائیک بھی توجہ کا مرکز بنی رہی، بائیک لوورز کی خواہش رہی کہ ان کے پاس بھی مصطفیٰ جیسی بائیک ہوتی،  ۔

جہاں تک بات کی جائے مصطفیٰ کی بائیک کے بارے میں تو یہ بات حیران کن ہے کہ مصطفیٰ کے زیر استعمال بائیک royal Enfield دراصل میڈ ان انڈیا بائیک ہے، اس بائیک کا پلانٹ بھارت کے شہر مدراس میں ہے اور بھارت بڑے پیمانے پر اس کو برآمد بھی کرتا ہے۔

ایک اور دلچسپ بات یہ کہ مصطفیٰ اور شرجینا کسی فلیٹ میں شفٹ نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ کراچی کی پارسی کالونی کا ایک بنگلہ تھا جہاں وہ گھر سے نکالے جانے کے بعد رہائش پذید ہوئے تھے۔

البتہ ان کے گھر کے باہر کی شوٹنگ کے مناظر کراچی کے ہی اولڈ سٹی ایریا کے تھے  لیکن ان کا گھر وہاں ہر گز نہیں تھا۔

Annie Shirazi

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago