تیزاب گردی میں بصارت کھو دینے والا رکشہ ڈرائیور، امداد کا منتظر

جب ملک میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اچانک اضافہ دیکھا جارہا تھا، بظاہر لگتا تھا کہ حکومتیں جنسی جرائم کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں وہیں پھر معاشرے میں موجود کچھ بہادر شہری اس ذمہ داری کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ فقیر حسین ان قابل تعریف مردوں میں سے ایک ہے جو ہوس کے پجاری شکاریوں کو اپنے رکشہ میں موجود دو خواتین کو ہراساں کرنے سے روکتا ہے ۔ لیکن اکتوبر 2020 میں ، فقیر حسین کی زندگی اس واقعے کی وجہ سے تبدیل ہوگئی جس میں بدلہ لینے والے مجرموں نے فقیر حسین پر تیزاب پھینک دیا۔

تفصیلات کے مطابق ہراساں کرنے والوں نے فقیر حسین کی زندگی کو ناصرف مستقل طور پر نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس سے دیکھنے کی صلاحیت بھی چھین لی۔ فقیر حسین اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے۔ جو دن بھر رکشہ چلا کر اپنے اہل خانہ کے لئے حلال رزق کمانے کا ذریعہ ہے۔ اس کی دو جوان بیٹیاں ہیں اور کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے۔

Image Source: Twitter

کراؤڈ فنڈنگ ​​کے ذریعے ، اس کی بیٹیاں اس کے لئے کچھ رقم اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوئی۔ انہوں نے کچھ آپریشن کروائے ہیں تاہم ، افسوس کے ساتھ فقیر محمد کی پوری زندگی اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے لئے بھی ایک آزمائش بن گئی ہے۔ وہ شدت سے آگے کا راستہ تلاش کررہا ہے۔ ایک ایسا راستہ ، جو انتہائی دھیما لگتا ہے۔

حکومت ایسے متاثرین کی مدد کے لئے بہت سے فنڈز اور اسکیموں کا اعلان کرتی ہے لیکن ان پر کبھی عمل میں نہیں ہوتا ہے۔ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد آج آزادی کے ساتھ گھوم رہے ہیں لیکن کیا کریں کہ ہمارے ملک میں یہ جرم ایک حقیقت رکھتا ہے، ہم آئے روز ان واقعات کے حوالے سے پڑھتے ہیں، فقیر حسین کو بھی ایک اور اعداد وشمار بننا پڑا ہے، آج اس کی زندگی تباہ کرکے اسے دوسروں کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔

گو فنڈ می فقیر حسین کے فنڈ رائزر نے لکھتے ہیں کہ ، “میں ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں، تاکہ فقیر حسین اپنے گھر والوں اور بچوں کے لئے کچھ کر سکے۔اس حوالے سے میں نے ایک فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا ہے جو تیزاب سے جلنے والے متاثرین میں مہارت رکھتا ہے اور ان سے جواب سننے کا منتظر ہوں۔

Image Source: GoFund ME

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ لوگ چندہ دے رہے ہیں ، لیکن فنڈ اکھٹا کرنے والے منتظمین کوشش کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے یہ مستحکم آمدنی کا ذریعہ پیدا کیا جاسکے، جسے وہ اپنی زندگی کا ذریعہ معاش بن سکے گا۔ ان کے لئے، ان کے بچوں کی زندگی بہت اہم ہے۔ ان کی شادی ، ان کی زندگی ، ان کی ذمہ داریاں سب فقیر حسین کے ہی کندھوں پر ہے۔

فقیر حسین کے فنڈریسر نے مزید کہا یہ انتہائی ضروری بات ہے کہ میں نہیں جانتا کہ کیا طبی لحاظ سے کچھ اس طرح کی جلد پر گرافٹنگ کی جاسکتی ہے ، جو ان کی بینائی بحال کرے، کیونکہ ایک بار ڈاکٹروں کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ ان کی مدد کی جاسکتی ہے ، میں عطیہ کی رقم میں ایڈجسٹ کروں گا، لیکن آج کی ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اسے زندگی گزارنے کے لائق کردیں۔

واقعتاً آج ہمارا ملک ایک ایسے جرائم کا شکار ہے، جس کا ماضی میں کبھی تصور نہیں ملا کرتا تھا یعنی بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی، لیکن افسوس کے ساتھ سخت ترین قانون سازی کے باوجود دن بدن اس جرم کی شرح میں ایک واضح دیکھا جا رہا ہے۔ جو پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

3 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago