پلمبنگ پائپوں سے انوکھے لیمپ تیار کرنے والے تین بھائی

بچپن سے بچوں کی تربیت کو ایک خاص سمت میں رکھ کر انھیں ایسی عادتوں اور مشغلوں سے روشناس کروانا چاہئیے جن کے ذریعے ان کے اندر تخلیق کا جذبہ پیدا ہوسکے۔ اس کی ایک بہترین مثال اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تین ایسے ہنرمند بھائی ہیں جو پرانے پلمبنگ پائپس کو استعمال کرکے انوکھے لیمپس تیار کرتے ہیں۔

یہ تینوں بچے پلمبنگ پائپوں کا استعمال کرکے طرح طرح کے لیمپ تیار کرتے ہیں۔ یہ فلموں کے کریکٹرز کو دیکھتے ہیں اور پھر لیمپ کا ڈیزائن بھی ویسا ہی بنالیتے ہیں۔ ایک بھائی مختلف آئیڈیئے دیتا ہے، ایک ان کو عملی شکل میں لے کر لاتا ہے اور تیسرا بھائی بجلی کا کام سنبھالتا ہے۔

خبر رساں ادارے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بھائی نے بتایا کہ میرے بھائی کو ڈائناسور پسند ہیں تو اس نے دو ڈائناسور کی شکل کے لیمپ بنائے ہیں۔ مجھے گاڑیوں کا شوق ہے تو میں نے ایک کار بنائی تھی، ایک اور بھائی کو فٹ بال کا شوق ہے تو اس نے فٹ بال کا کھلاڑی بنایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے کسٹمرز یہ سمجھتے ہیں کہ ہم یہ لیمپ کہیں اور سے خریدتے ہیں اور پھر اسے بیچ دیتے ہیں۔ لیکن جب ہم انہیں یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے خود ان کو بنایا ہے تو وہ بہت متاثر ہوتے ہیں۔

لیمپ بنانے کا یہ انوکھا آئیڈیا کیسے ان کے ذہن میں آیا؟اس بارے دوسرے بھائی نے بتایا کہ ایک بار ان کے اسکول میں انٹر پرینیور ویک منایا گیا تھا جس میں ان کے سب کلاس فیلوز نے سوچا تھا کہ استعمال شدہ سامان سے چیزیں بنائیں گے تو ان بھائیوں نے اپنے تمام پرانے کھلونوں کو لیمپ بنانے کے لئے استعمال کیا اور لیمپ فروخت کرکے سات ہزار روپے کمائے۔

ان لیمپس کو مختلف شکل دیناکے لئے آئیڈیا کہاں سے لیتے ہیں؟ اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات جب کوئی فلم دیکھتے ہیں تو اس میں سے کوئی کردار چن کر اسے بناتے ہیں یا پھر انٹرنیٹ سے آئیڈیا لیتے ہیں اور ڈیزائن میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی کر کے لیمپ بنالیتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ لیمپ بنانے کے لئے چیزیں خود خرید کر لاتے ہیں اور اگر کوئی چیز نہیں ملتی تو پھر اسے خود گھر پر بنالیتے ہیں ۔جبکہ یہ لیمپ بنانے میں انہیں ایک سے تین گھنٹے کا وقت لگ جاتا ہے۔

مزید جانئے: ایک پاکستانی نے چار نہیں چھے خانوں والا لڈو تیار کرلیا

کوویڈ -19 سے پہلے یہ بھائی اپنے لیمپ نمائش وغیرہ میں فروخت کرتے تھے لیکن اب کورونا کی صورتحال کی وجہ سے انہوں نے اپنے یہ لیمپ اسلام آباد میں واقع اپنے والد کی دکان پر ڈسپلے کردئیے ہیں۔

جیسے تمام بچوں کی ذہانت یکساں نہیں ہوتی اسی طرح تمام بچے ایک جیسی تخلیقی صلاحیتں نہیں رکھتے۔ اگر کوئی بچہ تخلیقی صلاحیتوں کا مالک ہے تو انہیں پروان چڑھانے کے لیے والدین کاکردار خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ان تینوں باصلاحیت اور ہنر مند بھائیوں کو بھی ان کے والد کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جو ہر قدم پر ان کا ساتھ دیتے ہیں اسی لئے یہ تینوں بھائی پائپوں کے زریعے لیمپ بنانے کے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہناسکیں ہیں۔

Courtesy: Urdu News

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

2 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago