پاکستان میں ٹرک آرٹ کو منفرد پہچان حاصل ہے، شوخ و رنگ برنگے ،خوب صورت ڈیزائنوں، پھول پتیوں اور مختلف نقش و نگار سے مزین دیوہیکل ٹرک جب ملکی سرحدوں کے باہر لمبی مسافتوں پر نکلتے ہیں تو ‘ٹرک آرٹ’ کو دیکھ کر سب حیران رہ جاتے ہیں۔ آرٹسٹ اس ٹرک آرٹ سے پرانے سے پرانے ٹرک کو ایسے خوبصورتی سے سجاتے ہیں کہ یہ ٹرک نئے جیسے معلوم ہوتے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ گویا چلتا پھرتا آرٹ کا نمونہ ہوں۔
پاکستان کے اس منفرد ٹرک آرٹ کو دنیا بھر میں منوانے میں آرٹسٹ حیدر علی کا نام سرفہرست ہے جنہوں نے دنیا کے کئی ممالک میں جاکر پاکستان کے اس منفرد کام کو منوایا اور خوب داد وصول کی ہے۔ لیکن اس بار انہوں نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور پاکستانی ٹرک آرٹ کو جوتوں پر بھی بنانا شروع کردیا۔
حیدر علی کے مطابق وہ پچھلے پچیس برسوں سے اس کام سے وابستہ ہیں اور یہ ان کا خاندانی پیشہ ہے جبکہ انہوں نے یہ کام اپنے والد سے سیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آرٹ بالکل بھی آسان نہیں ہے، جوتوں پر ٹرک آرٹ ایک انتہائی مشکل اور محنت طلب کام ہے اور یہ ایک ایسا فن ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔
دوسری جانب ، سوشل میڈیا پر جوتوں پر ٹرک آرٹ کے شاہکار کی تصاویر وائرل ہوچکی ہیں جس میں حیدر علی کو جوتوں پر پینٹنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ صارفین کی جانب سے ان کے فن کو بے حد سراہا جا رہا ہے اور لوگ ان کے بنائے گئے یہ جوتے خریدنے کے لیے بے تاب ہیں۔
ان جوتوں کی قیمت تقریباً 7 ہزار بتائی جارہی ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کے جوتے دیگر ممالک سے منگوائے جاتے تھے کیونکہ بہت کم لوگ جوتوں پر اس طرح کی نقاشی کرتے ہیں۔ لیکن اب پاکستانی آرٹسٹ نے اس میدان میں قدم رکھ کے سب کو حیران کردیا ہے۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل حیدر علی فلائٹ ٹریننگ آرگنائزیشن اسکائی ونگز کے دو سیٹوں والے سیسنا طیاروں کو اس رنگین آرٹ سے مزین کرچکے ہیں۔ طیارے پر ٹرک آرٹ کے ذریعے فضا میں رنگ بکھیرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح دنیا بھر میں پاکستان کا اچھا اور مثبت پیغام پہنچے۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نےٹرک آرٹ فن کو قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے جس سے ٹرک آرٹ اور ٹرک آرٹسٹس کو دنیا بھر میں پہچان اور پذیرائی مل رہی ہے۔
علاوہ ازیں ، جہاں پاکستان میں ٹرک آرٹ کو اس قدر مقبولیت حاصل ہے اس کو بنانے والے آرٹسٹوں کی قدر کی جا رہی ہے وہیں کچھ باصلاحیت لوگ ایسے بھی ہیں جن کے آرٹ کی کوئی قدر نہیں جن میں ایک نام قومی کک باکسنگ چیمپئن نثار احمد خان کا ہے جو چائے کے ہوٹل پر کام کرتے ہیں ،نثار نیشنل لیول پر کئی میڈلز اپنے نام کرچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کرنے کیلئے عوام سے دو لاکھ روپے اکٹھا کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ وہ اپنے محدود مالی وسائل کی وجہ سے رقم ادا نہیں کر پارہے تھے۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…