ملک میں خودکشیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ، ہر روز کوئی نہ کوئی شخص اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہا ہے کہیں ان خودکشیوں کی وجہ گھریلو ناچاقیاں بنتی ہیں تو کہیں معاشی پریشانیاں ۔۔۔افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ مسائل کم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی نمل یونیورسٹی کے ایک جواں سالہ طالبعلم نے مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ آکر پنکھے سے لٹک کر جان دیدی۔
تفصیلات کے مطابق نوجوان طالبعلم ساگر گوپانگ کا تعلق بدین سے تھا اور وہ نمل یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ کا اسٹوڈنٹ تھا۔ ساگر پڑھنے کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی ، وی لاگنگ اور فلم میکنگ کے کام سے بھی وابستہ تھا۔ اتنی قابلیت کے باوجود بھی وہ بیروزگار تھا۔ یہ نوجوان اپنے مالی مسائل سے اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ 14 اپریل کو سحری سے قبل پنکھے سے لٹک کر خود کشی کرلی۔
خودکشی کرنے سے پہلے اس نوجوان نے اپنے گھر والوں کے نام اپنی ڈائری میں ایک تحریر لکھی جو کہ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہورہی ہے۔ ساگر نے اپنی آخری تحریر میں لکھا ہے کہ”سب کو میری طرف سے بہت مبارک ہو، میں اس دنیا سے جارہا ہوں۔ میں یہاں بہت تھک چکا ہوں، مجھے امی کی بہت یاد آتی ہے اور باجی وسیم بھی وہیں ہیں۔ میرے لیے ویسے بھی یہاں اب کچھ نہیں ہے، میں ہر چیز میں ناکام ہوچکا ہوں۔ پڑھائی، فوٹوگرافی، وی لاگنگ، یوٹیوب، فلم میکنگ اور محبت ہر چیز میں ناکام ہوچکا ہوں۔
سنول ریشماں پلیز مجھے معاف کرنا اور ابو آپ بھی مجھے معاف کرنا، مجھے آپ کی بہت یاد آئے گی۔ اس ڈائری میں اپنی کچھ تحریریں چھوڑ کر جارہا ہوں، ان کو سنبھال کر رکھنا۔ اور میری قبر پر صرف ساگر لکھنا اور کوئی رسومات نہیں کرنا، جب مجھے یہ رسومات نہیں پسند تو ان کو میرے لیے کیا بھی نہ جائے۔ سب خوش رہنا اور میرے اس عمل کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے بس مجھ سے امی کے بنا رہا نہیں جاتا۔ میں امی کے پاس جارہا ہوں۔”
نوجوان طالبعلم ساگر گوپانگ اپنی مرحوم والدہ کو حد سے زیادہ یاد کرتا تھا اور اکثر اپنی والدہ کی تصاویر اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی شیئر کرتا رہتا تھا۔ ساگر کے دوستوں کے مطابق وہ خاموش طبیعت تھا لیکن دوستوں کا دوست تھا، اس کی کبھی کسی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس نے کبھی اپنے گھر والوں کو تنگ کیا۔ بس وہ اپنے کام کو لے کر حد سے زیادہ سوچتا تھا، اس کے فن کی کسی نے قدر نہ کی۔
دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں خودکشی کی اہم وجوہات گھریلو جھگڑے، مہنگائی وبیروزگاری ،جہالت اور ذہنی تناؤ ہے تاہم اعداد وشمار کے مطابق زیادہ تر واقعات ذاتی و گھریلو مسائل کہ وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔جبکہ خودکشی کرنے والوں میں ان پڑھ افراد کے ساتھ پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھی اکثریت شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں رحیم یار خان کے تھانہ سٹی اے ڈویژن میں تعینات مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک لیڈی سب انسپکٹر میری روز نے مبینہ طور پر شوہر سے جھگڑے پر دلبرداشتہ ہوکر گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں نگل لی تھیں جس سے اس کی حالت غیر ہوگئی تھی اور اسے شیخ زاید اسپتال ایمرجنسی وارڈ منتقل کیا گیا تھا ۔جہاں ڈاکٹروں نے اس کا معدہ واش کرکے زندگی بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن لیڈی سب انسپکٹر جانبر نہ ہوسکیں تھیں۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…