ماضی میں دل کی بیماریوں کو عموماً ادھیڑ عمر یا ضعیف افراد سے جوڑا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں ایک خطرناک رجحان سامنے آیا ہے: نوجوانوں، بالخصوص 20 سے 35 سال کی عمر کے افراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز میں تیزی سے اضافہ۔ حیران کن طور پر، یہ نوجوان بظاہر صحت مند نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے وہ جنسی، ذہنی، گھریلو اور معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، جو کہ دل کے مسائل کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جدید طرزِ زندگی، سوشل میڈیا کا غیر حقیقی معیار، کیریئر کی غیر یقینی صورتحال اور تعلقات کی الجھنوں نے نوجوانوں کو ایک نہ ختم ہونے والے ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ نیند کی کمی، اینگزائٹی اور ڈپریشن نہ صرف دماغ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ یہ دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور شریانوں کی صحت پر بھی براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کی کمی، مہنگائی، قرضوں اور خاندانی توقعات جیسے مسائل نے شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ معاشی دباؤ اندر ہی اندر ایک “سائلنٹ کلر” کی طرح کام کرتا ہے، جو ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا نتائج دے سکتا ہے۔
روایتی سماجی بندشوں، جنسی تعلیم کی کمی، اور غیر صحت مند رویوں کی بنا پر نوجوانوں میں جنسی حوالے سے الجھن، دباؤ اور جرم کا احساس جنم لیتا ہے۔ یہ ذہنی انتشار نہ صرف شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ جسمانی صحت، خصوصاً دل کی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
خاندانی جھگڑے، والدین کی علیحدگی، احساسِ محرومی، یا گھریلو تشدد جیسے عوامل ایک نوجوان کے دل و دماغ پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والا نوجوان ہر وقت “اسٹریس موڈ” میں رہتا ہے، جو کہ دل کی بیماریوں کا بڑا سبب بنتا ہے۔
ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ سکولوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں ذہنی صحت کی آگاہی مہمات، تھراپی اور کونسلنگ کو عام کرنا ہوگا۔
جنسی تعلیم کو سماجی ممنوعات سے نکالنا ہوگا۔ نوجوانوں کو مناسب اور سائنسی بنیادوں پر تربیت دینا ضروری ہے۔
معاشی اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔
گھریلو سطح پر محبت، اعتماد اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔
پاکستان میں ہارٹ اٹیک اور دل کی بیماریوں سے ہر سال دس لاکھوں افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 200,000–400,000 افراد براہِ راست دل کی بیماریوں کی وجہ سے تلف ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی شرح یعنی وہ افراد جو 40 سال سے کم عمر ہیں ان میں تقریباً 15 فیصد ہارٹ اٹیک کا شکار ہیں، جبکہ عمومی اموات میں 19٪ سے بڑھ کر 29٪ تک کا حصہ ان امراض کا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن اگر یہی نوجوان قبل از وقت دل کے امراض کی لپیٹ میں آ جائیں، تو یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے۔ ہمیں فوری طور پر اجتماعی سطح پر آگاہی، بہتری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے نوجوان صحت مند، پُرامن اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔
عرش حسین، نوابشاہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک بزنس گریجوئیٹ نوجوان ہیں جو سوشل میڈیا پر شاعری، بلاگز اور مختصر کہانیوں کے ذریعے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرتے ہیں۔ اُن کی تحریریں خاص طور پر عورتوں کے حقوق، جنسی زیادتی اور خودسازی جیسے موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں۔
مصنف: سید پرویز علی
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…