حال ہی میں پاکستان کی شوبز انڈسٹری کو خیرآباد کہنے والے پاکستانی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کا بڑا نام حمزہ علی عباسی یوں تو کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہے، ان کی اداکاری کی صلاحیتیں ہو یا ان کی شخصیت دونوں ہی انتہائی دلفریب تصور کی جاتی ہیں۔ سماجی و سیاسی معاملات پر اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر اپنے تنقیدی انداز میں تبصرے سے بھی لوگوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے حوالے سے ایک فقرہ مشہور ہے کہ آپ ان کی رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن ان کی پرکشش شخصیت سے نہیں کرسکتے ہیں.
حمزہ علی عباسی کو یوں تو پاکستان شوبز انڈسٹری میں اتنا طویل عرصہ نہیں ہوا ہے تاہم وہ مختلف انداز میں خبروں میں رہتے ہیں۔ گزشتہ برس حمزہ علی عباسی نے اپنے چاہنے والوں کو بذریعہ ٹوئیٹ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی سے متعلق جلد ایک خبر لوگوں سے شئیر کریں گے، بعدازاں حمزہ علی عباسی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے شوبز کیرئیر کو خیرآباد کہنے لگے ہیں۔ اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں حمزہ علی عباسی نے مزید بتایا کہ انہوں نے لادینیت سے اسلام تک کے سفر کو جانا ہے اور اب وہ اللہ کی رضا کی خاطر شوبز کی دنیا کو خیر آباد کررہے ہیں۔
اس دوران اداکار حمزہ علی عباسی معروف اداکارہ نمل خاور کے ساتھ رشتہ ازدواج منسلک ہوگئے، دونوں فنکاروں نے اس دوران شوبز انڈسٹری کی سرگرمیوں سے دوری اختیار رکھی تاہم حالیہ کچھ روز سے اداکار حمزہ علی عباسی اور ان کی اہلیہ نمل خاور کو سوشل میڈیا پر ایک نجی محفل میں ڈانس کرنے پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اداکار حمزہ علی عباسی جو شوبز کی دنیا کو خیرآباد کرنے سے قبل ہی فلموں اور شوز میں ڈانس کرنے کے حوالے سے سخت موقف رکھا کرتے تھے، جن کا خیال تھا کہ ڈانس وغیرہ کے ذریعے نوجوانوں کو غلط سمت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہمیشہ فلموں میں شامل کئے جانے والے آئٹم سانگ پر بھی اپنی مخالفت کی ہے۔
البتہ ان دنوں اداکار حمزہ علی عباسی کی اہلیہ اداکارہ نمل خاور کی بہن کی شادی کی تقریبات جاری ہیں، اس دوران نمل خاور کی بہن کی ڈھولکی کی کچھ ویڈیوز اور تصاویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جس میں سابقہ اداکارہ کو بہن کی شادی میں رقص کرتا دیکھا جارہا ہے۔
یہاں یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ ایک نجی تقریب تھی۔ البتہ حمزہ علی عباسی اور نمل خاور کے مداحوں کی جانب سے تو اسے خوب پسند کیا گیا، لیکن ناقدین کی جانب سے انہیں خوب تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، کوئی اسے حمزہ علی عباسی کا دوغلا پن قرار دے رہا ہے تو کوئی پوچھ رہا ہے کہ حمزہ علی عباسی کو یہ سب نظر نہیں آتا ہے۔ اس دوران کئی ناقدین کی جانب سے ذاتی قسم کے حملے بھی کئے گئے، جو ایک انتہائی غیر مہذب عمل ہے۔
واضح رہے جمہوری معاشرے میں تنقید ہر شہری کا حق سمجھا جاتا ہے، لیکن تنقید کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی ذاتیات پر حملا کیا جائے اور اخلاقیات کے دامن کو چھوڑ دیا جائے۔ افسوس کے ساتھ حمزہ علی عباسی اور نمل خاور کے معاملے میں بھی یہی سب ہوا، جوکہ ایک انتہائی غلط عمل ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر آزادی رائے کا ہزگز مطلب نہیں کہ سلیبریٹی کو اپنی جاگیر سمجھ لیا جائے اور جائے جو دل کرے بول دیا جائے۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…