ماڈل سبیکا امام فیمنزم سے متعلق صدف کنول کے بیان پر نالاں

شادی کے بعد سے تنقید کا شکار ماڈل صدف کنول ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئیں، فیمنزم سے متعلق متنازعہ بیان پر ماڈل سبیکا امام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صدف کنول پر برس پڑیں۔

تفصیلات کے مطابق حال ہی میں اداکارہ صدف کنول اور اداکار شہروز سبزواری کے ایک انٹریو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بےحد وائرل ہے، جس میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام ہمارے مہمان میں میزبان فضہ شعیب سے بات کرتے ہوئے اداکارہ صدف کنول نے فیمنزم سے متعلق ایک متنازعہ دیا، جس نے الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کردیا۔

اس سلسلے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس انسٹا گرام پر ماڈل سبیکا امام نے اداکارہ صدف کنول کے مذکورہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس میں صرف صدف کی غلطی نہیں، بیچاری اتنا ہی بولے گی جتنا اسے پتا ہے، میرے خیال میں میزبان کو صدف سے سنجیدہ سوال نہیں پوچھنے چاہیے تھے، میزبان کو چاہیے وہ جو بھی سوال کرے اس حوالے سے ذمہ دار ہو، تاکہ ایسے موضوعات معمولی نہ ہوجائیں۔

ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں سبیکا امام لکھتی ہیں کہ فیمنزم کا مطلب جنس کے برابر کے حقوق اور برابر کے مواقع ہونا ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین کے متنوع تجربات، شناختوں، علم، بااختیار کرنے اور تمام خواتین کو مکمل حقوق کا احساس دلانے کی کوشش کرنے کے بارے میں ہے۔

ماڈل سبیکا امام کا مزید کہا کہ ایک عورت کو اپنے شریک حیات سے محبت کرنی چاہیے اور اس کا خیال رکھنا چاہیے لیکن بحیثیت عورت کے حقوق اور مواقع کو گھر کے کاموں تک محدود کرنا یہ معاشرے میں موجود صنفی ناانصافی میں مبتلا عورتوں کے لیے گمراہ کن، کم علمی اور تکلیف دہ ہے۔

مزید پڑھیں: ماڈل سبیکا امام اذان سمیع کے ایکٹنگ ڈیبیو پر ناخوش

سبیکا امام نے مزید لکھا کہ کپڑے استری کرنے یا جوتے اٹھانے میں کوئی برائی نہیں ہے، ہر انسان کا پیار کرنے کا انداز اور خیال رکھنے کے طریقے اپنے اپنے ہوتے ہیں، وہ آپ اس کی اچھائی سمجھیں یا اس کا پیار لیکن ایک عورت کی دنیا یہاں شروع ہوکر یہاں ختم نہیں ہوتی ہے۔ جیسا کہ مسس سبزواری کی جانب سے بتایا گیا۔

اس موقع ماڈل سبیکا امام نے کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ فیمنزم لفظ سے کافی لوگوں کو الرجی ہے، جس کی وجہ صحیح انداز میں نظریات کا نہ پہنچنا ہے۔ فیمنزم کا لفظ اگر اچھا نہیں لگتا ہے، تو یہ سمجھ لیں کہناکک عورت کو بھی انسان سمجھیں۔ یہ ان کی تمام مردوں سے درخواست ہے، انہیں روز کی بنیادوں پر ساری زندگی دیکھنا پڑھتا ہے۔

واضح رہے اداکارہ صدف کنول نے انٹرویو میں موقف اپنایا تھا کہ ان کے نزدیک فیمنزم یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کا خیال رکھیں، اس کی عزت کریں، کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں، جو وہ بچپن سے دیکھتی ہوئی بڑی ہوئیں، یہ انہیں سکھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ ماننا ہے کہ فیمنزم نے معاشرے میں لبرلز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ وہ ایک عورت ہیں، انہیں اپنے شوہر ہو سمجھنا چاہیے، اور وہ شوہر سے بہتر سمجھ سکتی ہیں۔

جس کے بعد سوشل میڈیا پر ماڈل صدف کنول کے اس بیان کو لیکر ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا تھا، کئی لوگوں نے جہاں صدف کنول کے بیان کی حمایت کی تو وہیں کچھ لوگوں نے ان کے بیان پر ناصرف تنقید کی بلکہ ان کا ماننا ہے کہ صدف کنول کی فیمنزم کی درست تعارف سے آشنا نہیں ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago