مرد کو دوسری شادی کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں

پاکستان کے قانون کے مطابق اگر کوئی بھی شخص دوسری شادی کی دل میں خواہش رکھتا ہے تو اس کو دوسری شادی کرنے سے قبل اپنی پہلی بیوی کو ناصرف اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے بلکہ پہلی بیوی اور اگر بیوی کی تعداد ایک سے زیادہ ہے اور مزید کی خواہش رکھتا ہے تو اس کو تحری طور پر اپنی بیوی کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ وہ ایسا نہیں کرے گا تو وہ پاکستان کے قانون کے تحت ملزم قرار پائی گا۔

اگرچہ کچھ دنوں سے یہ بازگشت جاری ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کی جانب سے تجویز حکومت کو بھیجی گئی ہے کہ اس قانون تبدیل کی جائے، کیونکہ اس اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ” اسلامی قوانین کی رو سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد کو پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا حکومت کو مسلم فیملی لاء میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

یاد رہے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا وہ آئینی ادارہ ہے جو حکومت اور ریاست پاکستان کو قانون سازی کے معاملے پر اسلامی مشاورت فراہم کرتا ہے۔ جبکہ مسلم لاء پاکستان میں وہ قانون کہلاتے ہیں جن میں پاکستان میں موجود مسلمان مرد اور عورتوں کے نکاح اور طلاق سے متعلق ہیں۔ یہ قانون پاکستان میں انیس سو اکسٹھ میں آرڈیننس کی صورت میں متعارف کروایا گیا تھا۔ اس ہی قانون کے تحت پہلے مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت ہے تاہم اب خبریں ہیں کہ اس قانون میں اسلامی نظریاتی کونسل اس قانون کو اسلامی تعلیمات کے منافی سمجھتا ہے۔

اگرچہ موجودہ قانون تحت اگر شوہر بیوی سے اجازت نامہ لئے بغیر دوسری شادی کرتا ہے تو اس کو پاکستان کے قانون کے تحت جرمانہ اور عمر قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ اس قسم کا ایک واقعہ سال 2017 میں پیش آیا تھا جس کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ علی جواد نقوی نے لاہور کی ایک زیلی عدالت میں ایک شخص کو پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر شادی کرنے پر دو لاکھ کا جرمانہ اور چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی تھی۔

پاکستان میں 2015 کے فیملی لاء کے تحت دوسری شادی کرنے کے لئے یونین کونسل کے چیئرمین کو ایک تحریری درخواست دینی ہو ہے، جس کے تحت دوسری شادی کی وجہ معلوم کی جاتی ہے اور یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ آیا پہلی بیوی آگاہ ہے یا نہیں۔

بعدازاں یونین کونسل کے چئیرمین کو درخواست وصول ہونے کے بعد بیوی اور شوہر اپنا ایک ایک نمائندہ نامزد کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر ایک ثالثی کمیٹی بنائی جاتی ۔جس کے سربراہ یو سی چئیرمین ہوتے ہیں۔ جس بعد پہلی بیوی کی موجودگی میں کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ آیا مرد کو دوسری شادی کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

واضح رہے اس کمیٹی کے فیصلے کے برخلاف جانے پر مرد کو سزا اور جرمانہ ہوسکتی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago