کہنے کو آج اکیسویں صدی ہے مرد اور عورت دنیا میں ہر شعبے میں برابری کی بنیاد پر کام کرکے ہیں، دنیا کی ترقی میں آج عورتوں کا کردار کلیدی ہوچکا ہے تاہم ہمارے معاشرے میں آج بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو محض عورتوں استعمال اور خراب نظر سے دیکھتا ہے۔ جن کے باعث آج بھی عورتیں گھر باہر نکلتے ہوئے خوف کا شکار رہتی ہیں ساتھ ایسے کم ظرف اور ذہنی مریض لوگ اب سڑکوں تک ہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی ہراساں کرنے سے بعض نہیں رہتے۔
ایسا ہی ایک واقعہ کراچی میں پیش آیا جہاں ایک شخص کی جانب سے ایک خاتون کو بلیک میل اور ہراساں کیے جانے کی شکایت پر ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے کاروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک گھر پر چھاپہ مارا، جس میں مطلوب شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔
ایف اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم کے پاس سے خواتین کی غیر اخلاقی اور غیر مناسب تصویریں لیپ ٹاپ، موبائل فون اور میموری کارڈ میں سے برآمد کرلی گئیں ہیں۔ گرفتار کے پاس برآمد ہونے والے تمام الیکٹرانک گیجٹ کو حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم کے کاروائی میں گرفتار ملزم کی شناخت شعیب کے نام سے ہوئی۔ ایف آئی حکام نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ گرفتار ملزم شعیب اس قبل بھی 2017 میں گرفتار ہوچکا ہے بعدازاں شعیب کی بیل ہوگئی تھی۔
تفصیلات کے مطابق مزکورہ کیس میں ملزم پر الزام ہے کہ وہ ناصرف لڑکی کو بلکہ اس کے گھر والوں کو بھی بلیک میل کیا کرتا تھا۔ ملزم شعیب کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ناصرف لڑکی کی نازیبا تصویریں شیئر کی گئیں بلکہ ملزم کی جانب سے متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کے بھی فون نمبرز سوشل میڈیا پر شئیر کئے گئے تھے۔ اس گھنونے مقصد کی خاطر ملزم شعیب کی جانب سے سوشل میڈیا پر کئی جالی ای میل ایڈیز اور اکاؤنٹس بنائے گئے تھے ،جس کے ذریعے وہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو بلیک میل کیا کرتا تھا۔
ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا کہ لڑکی کے گھر والوں کی جانب سے کئی بار گھر کا نمبر تبدیل کروایا گیا لیکن ہر بار ملزم کی جانب سے نمبرز معلوم کرلئے جاتے تھے اور وہ پھر سے بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے لگتا تھا۔
اس حوالے سے ایف آئی حکام کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ ابتداء میں ملزم شعیب کی جانب سے بے انتہا محبت کا اظہار کیا گیا تاکہ لڑکی کا اعتماد کیا جاسکے جس کے بعد دونوں نے آپس میں منگنی بھی کی پھر اس کے بعد شعیب کی جانب سے لڑکی کو ہراساں اور بلیک میل کیا جانے لگا۔ ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا کہ بار بار بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے پر لڑکی کی جانب سے کئی بار خودکشی کی بھی کوشش کی گئی تھی۔
اس واقعے میں جہاں ہمیں اپنے معاشرے میں چھپے ہوئے ذہنی مریضوں کی دماغی پسماندگی کا حال نظر آتا ہے وہیں ہمیں ایک مثبت چیز اہف آئی اے کی صورت میں بھی نظر آتی ہے۔ ہمارے بھی اب سائبر کرائم جیسے معاملات میں اضافہ ہونے لگا ہے لیکن ایف آئی اے سائبر کرائم ٹیم کی اس حوالے کارکردگی بہترین سے بھی بڑھ کر ہے کئی کیسیز اس حوالے سے ان کی جانب سے حل کئے گئے ہیں۔ لہذا تمام لوگوں، خاص کر خواتین کو چاہے کوئی بھی انھیں موبائل فون یا انٹرنیٹ کے کسی بھی ذریعے سے ہراساں کرنے کی کوشش کریں تو فورا اپنی شکایات ایف آئی اے سائبر کرائم میں درج کرائیں تاکہ آپ کے لئے مسائل کا جلد از جلد خاتمہ ہوسکے اور اس طرح کے لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…