موٹروے پر خاتون سے زیادتی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے لیا

لاہور کے علاقے گجرپورہ میں پیش آیا انسانیت سوز واقعہ جہاں ایک بار پھر جنسی درندوں نے حوا کی بیٹی کو اپنی حوس کا نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق گجرانوالہ کی رہائشی خاتون گزشتہ روز اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور کے علاقے ڈیفنس میں اپنی بہن کے گھر ان سے ملنے آئیں تھیں۔ جہاں گجرانوالہ واپسی کے دوران رنگ روڈ پر گجرپورہ کے نزدیک ان کی کار کا پیڑول ختم ہوگیا، جس پر انہوں نے موٹروے پولیس سے رابطہ جس پر پولیس نے انھیں جواب دیا کہ سیالکوٹ موٹروے ہمارے دائرے میں نہیں آتی ہے۔ جس پر انہوں نے اپنی قریبی رشتہ داروں کو اطلاع فراہم کردی اور پھر وہ گاڑی میں ہی بیٹھ کر رشتہ داروں کے آنے کا انتظار کرنے لگیں۔

ابھی خاتون بچوں کے ہمراہ رشتہ داروں کا گاڑی میں انتظار ہی کررہیں تھیں کہ اس دوران اچانک ایک گاڑی میں دو مشکوک افراد آئے جنہوں نے کھڑی گاڑی کو دیکھا اور جس پر وہ فورا گاڑی کے پاس آئے اور خاتون کو گاڑی کا شیشہ اتارنے کو کہا، جب خاتون اور بچوں کی جانب سے شیشے نہیں کھولے گئے تو ڈاکوؤں نے گاڑی کے شیشے توڑ دئیے اور بندوق کی زور پر خاتون اور بچوں کو نیچے کھیتوں میں لے گئے اور پھر بچوں کے سامنے ڈاکوؤں نے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

جس کے بعد ڈاکوؤں کی جانب سے خاتون کے پاس موجود ایک لاکھ روپے نقدی، زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی چھین لئے گئے۔ اس تمام تر کارووائی کے بعد ملزمان باآسانی موقع سے فرار بھی ہوگئے۔

واقعہ کے تھوڑے دیر کے بعد جب رشتہ دار جائے وقوع پر پہنچے تو انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اس پورے واقعہ کی اطلاع فراہم کی۔ جس پر پولیس کی بھاری نفری اس مقام پر پہنچ گئی جہاں سے خاتون اور بچوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

اس خبر کے نشر ہوتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پولیس کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے خاتون کو انصاف کی بھی مکمل یقین دہانی کروائی۔

جوں جوں اس افسوناک اور انسانیت سوز واقعہ کی خبر میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلی ، عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، اس وقت سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جہاں لوگ اس واقعے کی مزمت کررہے ہیں وہیں یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ جنسی زیادتی کرنے والے ملزمان کو سرعام پھانسی دئے جانے کا قانون بنایا جائے۔

واضح رہے پاکستان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، ہمارے ہاں آئے دن خواتین سے زیادتیوں کے کیسسز آتے ہیں، 5 سال کی معصوم بچیوں سے لیکر نابینا خواتین کا ریپ، یہ سب ہمارے معاشرے کی تلخ حقائق میں شامل ہیں۔ یقیناً ہر معاشرے میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہونگے لیکن بحیثیت مسلمان قوم اب اس بات کا وقت آگیا ہے کہ چند سخت فیصلے کئے جائیں اور اس برائی کو جڑ سے ہی ختم کردیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago