قصور میں باپ ،چچا اور پڑوسی کے ہاتھوں لڑکی کی عزت پامال

سفاکیت کا ایک اور واقعے منظر عام پر آیا ہے جس میں سنگدل باپ نے بھائی اور ہمسائے کے ساتھ مل کر اپنی ہی سگی بیٹی کو حوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق قصور میں 15 سالہ لڑکی اپنے ہی باپ، چچا اور پڑوسی کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بن گئی، گرفتار شخص نے بھائی اور پڑوسی کے ساتھ مل کر اپنی ہی بیٹی کو 4 ماہ تک زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا۔

خیال رہے کہ سانحہ گجرپورہ کے بعد ملک میں جنسی زیادتی کے کئی خوفناک کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب کے ضلع قصور کے گاؤں گنجیاں والا سے ایک دل دہلا دینے والا کیس رپورٹ ہوا ہے ،پولیس کی زیر حراست اجمل نامی شخص نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے بھائی اور پڑوسی کے ساتھ مل کر اپنی ہی سگی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔

Image Source: Twitter

سگی بیٹی سے زیادتی کے مرتکب باپ اجمل نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اس کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہوگئی اور بیوی 4 میں سے 3 بیٹیوں کو اپنے ساتھ لے گئی جبکہ اس بیٹی کو باپ کے پاس چھوڑ کر گئی تھی۔ بیوی کے جانے کے بعد وہ اور اس کی 15 سالہ بیٹی اکیلے رہ رہے تھے۔

سنگدل باپ نے مزید بتایا ہے کہ اسے نجانے کیا ہوا کہ اس نے ناصرف خود اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی بلکہ اپنے بھائی اور پڑوسی کو بھی اس گھناؤنے فعل میں شامل کیا اور انہیں بھی اپنی 15 سالہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی اجازت دی۔ یہ سلسلہ 4 ماہ تک چلتا رہا، پھر اس کی بیٹی فرار ہو کر اپنے نانا کے پاس چلی گئی اور ان لرزہ خیز واقعات سے پردہ اٹھایا۔

پندرہ سالہ معصوم لڑکی کی جانب سے اپنے والد، چچا اور پڑوسی سے متعلق انکشافات کیے جانے کے بعد پولیس ایکشن میں آئی اور متاثرہ لڑکی کے باپ اجمل کو گرفتار کرلیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اجمل کے اہل خانہ اس کی شرمناک حرکتوں سے آگاہ تھے لیکن پھر بھی خاموش رہے۔ کئی ماہ کے جنسی استحصال کے بعد جب متاثرہ لڑکی کی حالت خراب ہوگئی تو اجمل کی بہن اس کو اپنے گھر لے گئی۔ تاہم سگی پھپو نے بھی باپ کو اپنی بیٹی سے بدسلوکی کرنے سے نہیں روکا اور باپ اپنی بیٹی کے ساتھ ان گھناؤنی حرکتوں سے باز نہ آیا۔

درندہ صفت باپ نے پولیس کو دئیےگئے بیان میں شرمندگی کے بجائے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر اس کی بچی بھاگ کر اپنے نانا کے پاس نہ چلی جاتی، تو وہ اور اس کے ساتھی بچی کی عزت تار تار کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے۔

افسوس کہ پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی، عصمت دری اور تشدد کے خوفناک واقعات کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی ، زیادتی اور ان کے قتل کے متعدد واقعات رپورٹ ہورہے ہیں ،جنوری 2018 میں بھی 6 سالہ بچی زینب انصاری لاپتہ ہوئی پھر پانچ دن بعد وہ کوڑے دان کے ڈھیر میں مردہ پائی گئی تھی ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ سفاکیت اور بربربیت کے ان واقعات میں اضافے کے باوجود ذمہ دارانوں نے اپنے لب سی رکھے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

2 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago