کرتارپور راہداری نے 74 برس بعد دو بچھڑے بھائیوں کو ملوادیا

پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت بچھڑ جانے والے دو بھائیوں کو 74 سال بعد کرتارپور راہداری نے ملوا دیا۔ قیام پاکستان کے وقت الگ ہونے والے یہ سگے بھائی ایک دوسرے سے ملنے کرتارپور راہداری گئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دو ضعیف العمر افراد کو پاکستان میں موجود گردوارہ کرتارپور صاحب میں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ دونوں انتہائی بچپن میں بچھڑ گئے تھے مگر دونوں نے پہلی نظر میں ایک دوسرے کو پہچان لیا اور دونوں بھائی آپس میں مل کر خوب روئے اور بغل گیر ہوتے رہے، بچھڑے بھائیوں کی ملاقات کے جذباتی مناظر سے ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ اس موقع پر ایک بھائی نے دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ زندہ ہیں تو مل بھی گئے ہیں۔

Image Sourcce: Twitter

تفصیلات کے مطابق دونوں بھائی پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت 1947 میں بچھڑ گئے تھے۔ دونوں کی یہ ملاقات منگل کے روز کرتارپور صاحب گردوارہ کے احاطے میں ہوئی تھی۔ بڑے بھائی حبیب اپنے چھوٹے بھائی صدیق سے ملنے بھارتی پنجاب کے علاقے پھلے والا سے آئے تھے، جبکہ چھوٹا بھائی فیصل آباد کا رہائشی ہے۔

Image Source: Screengrab

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدیق نے بتایا کہ جب وہ اپنی ماں اور بھائی حبیب سے بچھڑا تھا، اس وقت حبیب کی عمر 2 سال تھی۔ آج دوستوں کی مدد سے ہم دونوں بھائی مل پائے ہیں۔ اس موقع پر جب صدیق نے حبیب سے والدہ کے متعلق استفسار کیا تو حبیب نے بتایا کہ وہ 1962 میں ہی انتقال کر گئی تھیں۔ یہ بات سن کر صدیق ایک بار پھر آبدیدہ ہوگیا۔ بعدازاں، دونوں بھائی ملاقات کے بعد اپنے اپنے گھر واپس جاچکے ہیں تاہم انہوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہے کہ زندگی رہی تو ملتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: مردہ سمجھا جانے والا شخص 47 سال بعد گھر واپس آگیا

سال 1947 میں ہندو پاک کی تقسیم کے بعد پاکستان اور ہندوستان دو الگ الگ ریاستیں تو بن گئیں مگر زمین کی یہ تقسیم ان پر بسنے والے دلوں کو الگ نہیں کرسکی اور آج بھی ان میں رہنے والے کئی دل اپنے بچھڑنے والوں کی یاد میں اداس رہتے ہیں۔ ایسے میں چند خوش قسمت لوگ ایسے بھی ہیں جو کئی برسوں کی جدائی سہنے کے بعد کرتارپور راہداری کھولنے پر اپنے دوستوں اور اہلخانہ سے مل پائیں ہیں۔

گزشتہ دونوں بھی کرتار پور راہداری 75 برس قبل بچھڑنے والے دو دوستوں کو ملانے کا سبب بنی۔ بھارت سے آنے والے 94 سالہ سردار گوپال سنگھ اور مقامی پاکستانی شہری 91 سالہ محمد بشیر کی 74 سال بعد ملاقات ہوئی تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر جی بھرکر روئے اور بچپن اور لڑکپن کی باتیں کرتے رہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے نومبر 2019ء میں کرتارپور راہداری کھولے جانے کے بعد سکھ یاتری مذہبی پیشوا بابر گرونانک کے جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں کرتار پور آتے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

3 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago