ملک میں ہوشربا مہنگائی اور غربت سے ہر کوئی پریشان ہے خاص طور غریب طبقہ کو بدحالی کا شکار ہے ، مردوں کے ساتھ خواتین بھی اپنے کنبہ اور بچوں کی بہترین کفالت کے لئے ہر طرح کی مشکلات کا مقابلہ کررہی ہیں ۔یہ عظیم خواتین جو زیادہ پڑھی لکھی نہ ہونے کی وجہ سے مختلف کاموں سے اپنے اہل خانہ کو سکون اور خوشی فراہم کرنے کے لئے محنت کر رہی ہیں ۔
ایسی ہی ایک خاتون شہر کراچی کی مشہور شاہراہ گرومندر چورنگی کے قریب اپنے سوزوکی اسٹال سے برگر اور شوروما بیچتی ہیں ، غربت کا شکار یہ خاتون اپنے گھر کی کفالت کے لئے یہ اسٹال چلارہی ہیں ۔ان کے اسٹال پر صرف 100 روپے میں برگر فروخت کیا جاتا ہے ، 100 روپے والے برگر کے ساتھ فرینچ فرائز بھی ملتے ہیں جب کہ بغیر فرینچ فرائز والے برگر کی قیمت 80 روپے ہے ۔برگر کے علاوہ ان کے اسٹال پر شوورما بھی ملتا ہے ۔یہ خاتون اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لئے ہر روز سوزوکی میں کھانے کا یہ اسٹال لگاتی ہیں۔
کراچی والا نے جب غربت اور مہنگائی سے تنگ ان خاتون سے بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ اس معاشرے میں خواتین کے لئے گھر سے باہر نکل کر کام کرنا بہت مشکل ہے، برگر بیچنے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میں نے 60 روپے میں برگر بیچنا شروع کیا لیکن لوگوں کی طرف سے مجھے کوئی خاص ردعمل نہیں ملا۔ میرے شوہر اسٹال کھولتے تھے اور میں شام میں اسٹال پر آتی تھی کیونکہ مجھے اپنے بیمار سسر کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے، بیماری کی وجہ سے ان کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے اور ہم میں سے کسی ایک کو گھر پر رہنا پڑتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شروعات میں پولیس نے ہمیں سڑک پر برگر بیچنے پر ڈنڈے مارے اور ہمیں گھر جانے کو کہا۔ حتیٰ کہ ایک بار تو پولیس والے ان کے شوہر کو اپنے ساتھ لے گئے اور دھمکی دی کہ اگر وہ اپنا اسٹال کہیں اور منتقل نہیں کرینگے تو وہ ان کے خلاف رپورٹ درج ہوجائے گی ۔چنانچہ مجبوراً انہیں اپنا اسٹال منتقل کرنا پڑا لیکن پولیس نے دوبارہ زبردستی ان کا اسٹال ہٹوا دیا۔ اگرچے وہ دکان لینا چاہتی ہیں لیکن اس کے لئے بہت سارے پیسوں کی ضرورت ہے اور کرایہ سے لے کر دوسرے اخراجات ان کی جیب کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کے وہ اپنی خود کی دکان خریدیں ۔
دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ میرے دو بچے ہیں جنہوں نے سیکنڈ ائیر تک تعلیم حاصل کی ہے، میں چاہتی ہوں کہ وہ مزید تعلیم حاصل کریں لیکن معاشی حالات سے مجبور ہوں اور ان کی پڑھائی کا خرچہ نہیں اٹھا پارہی ہیں۔
مہنگائی کے اس دور میں کئی مائیں اپنی بہتر گزر بسر کے لئے سڑک پر کھانے پینے کے علاوہ دوسری اشیاء خوردونوش کا اسٹال لگانے پر مجبور ہیں اور غربت کی ماری ان ماؤں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ملک کے ہر شہر سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ایسی خواتین کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں ،راولپنڈی میں بھی ایک ایسی ماں ہے جو اپنی 5 سالہ بیٹی کے آپریشن کے لئے اسٹریٹ فوڈ فروخت کرتی ہے جب کہ ایک اور خاتون اپنے کنبے کی کفالت اور شوہر کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لئے چھوٹی بیٹی کے ہمراہ لنچ بکس فروخت کرتی ہیں۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…