جمعرات کو ایک قابل تعریف اقدام میں، کراچی کی ایک مقامی عدالت نے ایک شخص کو شاہراہ فیصل روڈ پر رکشے میں سفر کرتے ہوئے ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے جرم میں دو ماہ قید کی سزا سنا دی یے۔
تفصیلات کے مطابق رواں برس 18 جولائی کو متاثرہ خاتون کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو اور تمام احوال کو بیان کیا تھا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح آوارہ لڑکوں کے ایک گروپ نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جب وہ رکشے میں سوار سفر کر رہی تھیں۔
متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں آپ سب لوگوں کے ساتھ کی ضرورت ہے، برائے مہربانی ان کے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ ان کا دل اس واقعے کو صرف سوچ کر ہی کانپ رہا ہے، وہ بہت ڈری ہوئی ہیں۔ خاتون نے متاثرہ واقعے کی تمام تصاویر اور ویڈیوز بھی شئیر کیں۔ جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ آوارہ لڑکوں کا گروپ پورے شارع فیصل پر خاتون کا پیچھا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
ویڈیوز میں مزید دیکھا گیا کہ جب خاتون رکشے میں تھیں، مزکورہ آوارہ نوجوان ہنستے، مسکراتے، سیٹیاں بجاتے اور انہیں اپنی طرف بلاتے رہے۔ چنانچہ رونے اور خوفزدہ ہونے کے بعد متاثرہ خاتون نے ان کی ویڈیو بنانے کا فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں: سڑک پر چلتی خاتون کو ہراساں کرنے والے کی چپل سے درگت، ویڈیو وائرل
جوں ہی ملزمان نے خاتون کو ویڈیو بناتا دیکھا تو “ان میں سے ایک واپس آیا اور قریب آکر کہنے لگا، گھر والوں کو دیکھاؤگی کیا ویڈیو۔ خاتون نے مزید کہا کہ اسی شخص نے ڈرائیور کو رکشہ روکنے کے لیے شور مچاتے ہوئے رکشہ پر ٹکر بھی ماری تھی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ”وہ ڈر گئی تھیں لیکن انہوں نے ویڈیو کو نہیں روکا۔ خوش قسمتی سے آٹو ڈرائیور اتنا ہوشیار تھا کہ وہ بھی روکا۔ جب ہم شارع فیصل روڈ کے آخر میں ٹریفک پولیس سٹیشن پر پہنچے تو وہ وہاں رکشہ ڈرائیور نے رکشے کو روکا اور مذکورہ لڑکے کو اونچی آواز میں پکارا تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں سے بھاگ نکلا۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد میڈیا اور اعلی حکام نے واقعے کا نوٹس لیا۔ واقعے کے دو دن بعد، پولیس حکام مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کے گھر گئے اور ان کا بیان ریکارڈ کیا۔ بعدازاں واقعہ کی پہلی معلوماتی رپورٹ درج کی گئی تھی۔
بدھ کو جاری ہونے والے مقدمے کے فیصلے میں کہا گیا کہ پوری کارروائی کے دوران نہ تو واقعے کے مقام اور وقت پر مجرم کی موجودگی سے انکار کیا گیا اور نہ ہی ملزم محمد حمزہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کی تردید کی۔ جج نے اس قابل سزا جرم کرنے پر دو ماہ قید کی سزا سنا دی۔
فیصلے میں ملزم حمزہ پر دونوں میں سے ہر ایک جدم پر 10،000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور فیصلہ دیا کہ جرمانے میں سے ہر ایک کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید ایک ہفتے قید بھگتنا ہوگی۔
واضح رہے ملزم حمزہ کی ضمانت منسوخ کر دی گئی تھی اور عدالت نے اسے سزا سنانے کے لیے جیل بھیج دیا تھا۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…