کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ قیامت ایک روز خود بتائی گی کہ قیامت آخر کیوں ضروری تھی۔ زمین پر حوا کی بیٹی کے ساتھ ظلم و بربریت کا ایک اور ہولناک واقعہ، جہاں گھر سے محنت اور رزق حلال کمانے کے لئے نکلنے والی 22 سالہ مظلوم لڑکی کو جنسی درندگی اور حواس کا نشانہ بنالیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ملازمت پیشہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ 22 سالہ لڑکی َکلفٹن کے ایک مال میں ملازمت کیا کرتی تھی،21 ستمبر کی رات ساڑھے 9 بجے کام ختم ہونے کے بعد متاثرہ لڑکی روڈ پر ٹرانسپورٹ کا انتظار کررہی تھی، کہ اس کو دو ملزمان کی جانب سے اغواء کرلیا گیا، ملزمان نے لڑکی کو اپنی ڈبل کیبن گاڑی کے اندر اغواء کیا اور نامعلوم مقام پر واقع فلیٹ پر لے گئے۔ جہاں مبینہ طور پر ملزمان کی جانب سے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
بعدازاں ملزمان اگلی صبح جہاں سے انہوں نے لڑکی کو اغواء کیا تھا وہیں پر ہی لڑکی کو پھینک کر فرار ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق اس حد تک خوفزدہ تھی کہ وہ وہاں پولیس رپورٹ کروائے بغیر اپنے گھر چلی گئی۔ جس کے بعد گزشتہ روز لڑکی نے کلفٹن کے بورٹ بیسن تھانے میں اپنے ساتھ ہونے والے ہولناک واقعے کی شکایت درج کروائی، جس پر پولیس کی جانب سے فوری طور پر اس واردات کے خلاف مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا اور لڑکی کے میڈیکل اگزامینشن کے لئے لڑکی کو کراچی کے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹرز کی جانب سے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی گئی ہے۔ کیس کی تفتیش کو آگے بڑھانے کے لئے لڑکی کا ڈی این اے بھی کروالیا ہے۔
دوسری جانب پولیس کی جانب سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے، پولیس کی طرف سے مال کے اعتراف لگے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کا مزید کہنا ہے کہ پولیس کو اہم شواہد ملے ہیں، جلد ملزمان پولیس کی حراست میں ہونگے۔
اس ہی کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے آج ڈیفنس کے علاقے خیابان نشاط پر واقع ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فلیٹ کی نشاندہی خود متاثرہ لڑکی نے کی ہے۔ البتہ چھاپہ جب مارا گیا تو فلیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا۔ جس پر پولیس نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے۔
واضح رہے پاکستان میں حال ہی میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسسز میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس پر ملک بھر میں عوام کی جانب سے آواز بھی بلند کی جارہی ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ ان واقعات کو محض اس ہی طرح روکا جاسکتا ہے جب زیادتی کے مجرموں کو نشان عبرت یا سرے عام پھانسی دی جائے گی۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…