خاتون فوڈ ڈلیوری رائڈر نے مثال قائم کردی بوڑھے والدین کا سہارا بن گئیں

ہمارے معاشرے میں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا اور رائیڈر کی جاب کرنا مناسب خیال نہیں کیا جاتا اس لئے یہ ملازمت طویل عرصہ سے صرف مردوں کے لئے مخصوص ہے۔ تاہم شہر کراچی کی عائشہ اقبال میمن معاشرے کے ان روایتی تصورات کو بالکل خاطر میں نہیں لائیں اور انہوں نے اپنے اہل خانہ کی روزی روٹی کمانے کے لئے اس پیشے کا انتخاب کیا اور اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بن گئیں۔ وہ اس سے پہلے وہ مختلف نجی کمپنیوں میں ملازمت کرچکی ہیں تاہم اب وہ بطور فوڈ رائیڈر فوڈ پانڈا سے منسلک ہیں اور بائیک پر اپنے والد کے ہمراہ فوڈ ڈلیوری کا کام سرانجام دیتی ہیں۔

Image Source: Screengrab

عائشہ اقبال اپنے بوڑھے والدین کی اکلوتی اولاد ہیں اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے، انہوں نے اپنے خاندان کی گزر بسر یقینی بنانے کے لیے فوڈ ڈلیوری رائیڈر کے کام کو چُنا اور وہ اپنی اس ملازمت سے مطمئن بھی ہیں۔ وہ صبح اپنے بیٹے کو اسکول چھوڑنے کے بعد ایک اور جگہ سپلائی کا کام کرتی ہیں پھر دوپہر میں گھر واپس آکر کھانا وغیرہ تیار کرتی ہیں کیونکہ ان کی والدہ بیمار رہتی ہیں اس لئے وہ گھر کے تمام کام بھی خود ہی کرتی ہیں۔

Image Source: Screengrab

گھر کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد وہ دوپہر میں فوڈ پانڈا میں اپنی جاب شروع کرتی ہیں جو رات میں ختم ہوتی ہے۔ عائشہ سمجھتی ہیں کہ خواتین کے لیے فوڈ ڈلیوری کی ملازمت کا بہترین پہلو یہ ہے کہ اس سے آمدنی اچھی ہوجاتی ہے، جبکہ ملازمت کے دوران عائشہ کا واسطہ اچھا برے ہر طرح کے لوگوں سے پڑتا ہے بہت سے لوگ یہ کام کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو کبھی کچھ لوگ چھوٹی سی غلطی پر باتیں بھی سنا دیتے ہیں۔

Image Source: Screengrab

ہمارے معاشرے میں پڑھی لکھی باہمت خواتین تو اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور معاشرے کے لئے کسی مثال سے کم نہیں لیکن ان خواتین کے ساتھ ہمیں ان عورتوں کو بھی سراہنا چاہیے جو پڑھی لکھی نہیں، جن کے پاس وسائل بھی محدود ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنی محنت سے معاشرے میں باعزت روزگار اختیار کرکے اپنی اور اہل خانہ کی کفالت کررہی ہیں۔

لاہور کی روبیہ ندیم بھی ان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے نے موٹر سائیکل چلانا سیکھی تو اپنے شوق کے لئے تھے لیکن آج ان کا یہ شوق ان کی ضرورت بن گیا ہے۔ وہ پانچ بچوں کی ماں ہیں اور گھر کی کفالت کے لئے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانے کیلئے آن لائن بائیک سروس بائیکیا کی رائیڈر بن گئی ہیں۔

بلاشبہ ملک میں متعارف ہونیوالی مختلف ان آن لائن سروسز نے جہاں عوام کو سہولت فراہم کی وہیں بہت سے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں اور اس ذریعہ آمدنی سے مرد کیا خواتین بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کررہیں۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی فرحین زہرا کا شمار بھی ایسی ہی باہمت خواتین میں ہوتاہے ، وہ اسلام آباد کے ایک کالج میں بی ایس کیمسٹری کی طالبہ ہیں، اور دن میں کالج جبکہ شام میں فوڈ پانڈا رائیڈر کا کام کرکے اپنی پڑھائی اور گھر کے اخراجات پورے کر رہی ہیں۔

Story Courtesy: AARO

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

23 hours ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

1 month ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

1 month ago

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

2 months ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 months ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 months ago