جڑانوالہ میں لفٹ دینے کے بہانے خاتون اجتماعی زیادتی کا شکار

کہتے ہیں اگر کسی معاشرے میں روڈ پر چلتی ہوئی عورت اس معاشرے کے مردوں سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے تو سمجھ لیں کہ وہ معاشرہ ناصرف بگاڑ بلکہ بربادی کی طرف گامزن ہے۔ افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے میں بھی اس قسم کی لعنت اپنی جڑیں مضبوط کرتی جارہی جس کی سب سے بڑی مثال ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات کا رپورٹ ہونا ہے۔

حال ہی میں صوبہ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں پیش آیا ایک اور نہایت ہی افسوناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ جہاں ایک بار پھر سے روڈ پر کھڑی خاتون کو دو ملزمان کی جانب سے لڑکی کو اغواء کے بعد چھے ملزمان کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پولیس کی طرف مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

Image Source: Facebook

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ مہینے کی 24 تاریخ کو پیش آیا یعنی 24 ستمبر کو جہاں ایک لڑکی بس کے خراب ہونے کے باعث سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر دوسری سواری کا انتظار کررہی تھی کہ دو نامعلوم افراد نے اسے لفٹ دینے کے بہانے پر گاڑی میں بیٹھا لیا، بعدازاں ملزمان لڑکی کو اغواء کرکے اسے ایک ڈیرے پر لے گئے جہاں لڑکی کو نشہ آور چیز پلانے کے بعد 6 ملزمان نے اسے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جس کے بعد لڑکی کو برہنہ حالت میں فصلوں کے پاس پھنک کر چلے گئے۔

اس حوالے سے متاثرہ خاتون کی بہن کی جانب سے تھانے مانگٹانوالہ میں زیادتی ایف آر درج کروائی جہاں انہوں نے بس کے خراب ہونے کے بعد لفٹ لینے کے معاملے کا احوال بتایا وہیں ان کا کہنا تھا کہ بہن کے گھر نہ پہنچنے پر وہ بار بار اپنی بہن کو فون کررہی تھیں لیکن بہن کا جواب نہیں آرہا تھا، بعدازاں ملزمان کی جانب سے فون جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ان کی بہن کو فصلوں کے کنارے پھنک دیا وہ وہاں سے جاکر آٹھا لیں۔ چنانچہ وہ اس وقت بتائی ہوئی جگہ پر اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ گئیں البتہ وہ انھیں اندھیرے کے باعث نہ ملی۔ البتہ ان کی بہن اگلی صبح خود ہی گھر پہنچ گئی جہاں اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعہ کا بتایا۔

Image Source: kalinga

اس واقعے کی ایف آئی آر 29 ستمبر کو تھانہ مانگٹاپورہ میں واقع کے ہونے کے 5 روز بعد کاٹی گئی، جس میں 6 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، تاحال پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوئی گرفتاری سامنے نہیں آئی ہے۔

Image Source: Twitter

اس خبر کے سامنے آتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے، حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جبکہ آئی جی پنجاب انعام غنی کی جانب سے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے مجرمان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا حکم دیا گیا ہے۔

واضح رہے اس طرح کا ایک واقعہ چند روز قبل لاہور کے علاقے گجرپورہ میں آیا تھا جہاں ایک خاتون لاہور سے گجرانوالہ اپنے گھر اپنے بچوں کے ہمراہ جارہیں تھیں کہ اچانک سیالکوٹ موٹروے پر ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران ابھی ان کے رشتہ دار متعلقہ جگہ پر پیٹرول لیکر آرہے تھے کہ اس دوران دو ملزمان ڈکیتی کی غرض سے وہاں پہنچے، اس دوران ملزمان بچوں اور خاتون کو اکیلا دیکھ کر انھیں نچے کھیتوں میں لے گئے جہاں ملزمان کی جانب سے خاتون کو بچوں کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حوالے سے ایک ملزم پولیس کی حراست میں ہے جبکہ دوسرا مرکزی ملزم عابد تاحال فرار ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago