اسلام آباد: خواتین کی ویڈیو بناکر ہراساں کرنے والا ملزم سینیٹ کا ملازم نکلا

یہ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ ہراسانی کے خلاف سخت قوانین کے ہوتے ہوئے بھی دفاتر، اسکولز، یونیورسٹیز اسپتال، مارکیٹ غرض ہر جگہ خواتین کے ساتھ ہراسانی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چار دیواری سے باہر قدم رکھتے ہی حوا کی بیٹی پر مختلف خوف کی کیفیات طاری رہتی ہیں۔ اس کی مثال اسلام آباد میں حال ہی میں دیکھی گئی ہے۔

پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک خاتون کی جانب سے ایک ویڈیو شئیر کی گئی، جس میں ایک شخص کی ویڈیو شیئر کی ، جس میں اسے اور ساتھ موجود خاتون کو اے ٹی ایم کے باہر فلمایا جا رہا تھا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ خاتون ملزم سے وہ ویڈیو دکھانے کو کہتی ہے جس میں اس نے انہیں فلمایا تھا، لیکن ملزم موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ ایف 6، اسلام آباد میں ایک اے ٹی ایم میں پیش آیا۔

Image Source: Screengrab

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے فوراً بعد وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرنے والی خاتون نے پولیس کو اپنی شکایت میں کہا کہ جب وہ اے ٹی ایم پہنچی تو ملزم نے اس کی اور اس کی دوست کی ویڈیو بنانا شروع کردی۔ جب انہوں نے ملزم سے پوچھا کہ وہ ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں، تو اس نے معافی مانگنا شروع کر دی اور اعتراف کیا کہ وہ ان کی ریکارڈنگ کر رہا تھا اور پھر بھاگ گیا۔

بعدازاں انکشاف ہوا کہ وفاقی دارالحکومت میں مبینہ طور پر خواتین کو ہراساں کرتے ہوئے کیمرے میں پکڑا جانے والا شخص سینیٹ کی قانون ساز برانچ کا اہلکار تھا۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے ایک دن بعد، وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے منگل کو مشتبہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ تھانہ کوہسار نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اس میں انسداد ہراساں کرنے کی دفعات بھی شامل کیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں متاثرہ خواتین سے بھی رابطہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: حیدرآباد میں خاتون کی نامناسب ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے والا شخص گرفتار

دریں اثنا، مشتبہ شخص کی شناخت اظہر صدیق کے نام سے ہوئی ہے جو کہ سینیٹ آف پاکستان میں 18 گریڈ کا افسر ہے، جسے سینیٹ سیکرٹریٹ نے چار ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔

واضح رہے سیکرٹریٹ نے بدھ کی شب صدیق کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق حکام نے سول سرونٹ رولز 2020 کے رول 5 (1) اور (2) کے تحت ملزم کو معطل کر دیا ہے۔

یاد رہے رواں ماہ 2 دسمبر کو کوئٹہ پولیس نے ایک کاروائی کے دوران دو بھائیوں کی برہنہ فلم بندی، ریپ اور بلیک میل کرنے کے الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں ملزمان آپس میں سگے بھائی تھے، جو نوکریوں کا جھانسہ دیکر ، لڑکیوں کی نازیبا ویڈیو بناکر انہیں بلیک میل کیا کرتے تھے۔ ملزمان کے پاس بڑی تعداد میں نامناسب ویڈیوز برآمد پوئی ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago