باہمت خاتون فوڈ رائیڈر فرحین زہرا ہمت، حوصلے کی اعلیٰ مثال

پاکستانی خواتین نے دنیا پر یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو صرف مردوں کے لیے مخصوص ہو۔ ہماری خواتین خود مختار ہورہی ہیں اور اچھے مواقعوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں بھی کر رہیں ہیں۔راولپنڈی  سے تعلق رکھنے والی فرحین زہرا کا شمار بھی ان باہمت خواتین میں ہوتا ہے ،جو اسلام آباد کے ایک کالج میں بی ایس کیمسٹری کی طالبہ ہیں، دن میں کالج جاتی ہیں اور شام کو فوڈ پانڈا رائیڈر کا کام کرکے اپنی پڑھائی اور گھر کے اخراجات پورے کررہی ہیں۔

Image Source: Instagram

عام طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا اور ایسی ملازمت کرنا مناسب خیال نہیں کیا جاتا اس لئے یہ ملازمت طویل عرصہ سے صرف مردوں کے لئے مخصوص ہے۔ تاہم فرحین زہرا معاشرے کے ان روایتی تصورات کو بالکل خاطر میں نہیں لائیں اور انہوں نے اپنی روزی روٹی کمانے کے لئے اس پیشے کا انتخاب کیا۔

Image Source: Instagram

اس سے پہلے وہ مختلف نجی کمپنیوں میں ملازمت کرچکی ہیں جیسکہ کال سینٹر ، کلینک وغیرہ تاہم اب وہ بطور فوڈ رائیڈر فوڈ پانڈا سے منسلک ہیں۔ یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو صرف اور صرف مردوں سے مخصوص کر دیا گیا ہے مگر فرحین نے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے اور اپنے خاندان کی گزر بسر یقینی بنانے کے لیے فوڈ ڈلیوری رائیڈر کے کام کو چُنا اور وہ اپنی اس ملازمت سے مطمئن ہیں۔ فرحین زہرا کے مطابق وہ صبح 7:30 بجے کالج کے لئے نکلتی ہیں اور 1:30 بجے واپس آتی ہیں پھر وہ شام کے 6 بجے فوڈ پانڈا میں اپنی جاب شروع کرتی ہیں جو 11 بجے ختم ہوتی ہے۔

Image Source: Instagram

فرحین سمجھتی ہیں کہ خواتین کے لیے فوڈ ڈلیوری کی ملازمت کا بہترین پہلو یہ ہے کہ یہ آسان تو ہے ہی بلکہ اس میں خواتین خود کو محفوظ بھی تصور کرتی ہیں۔ نیز وہ خود بھی اس کام کو کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ ان کا خواب ہے کہ اپنی بی ایس کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد پاک آرمی اور ائیرفورس جوائن کریں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ملک میں متعارف ہونیوالی مختلف ان آن لائن سروسز نے جہاں عوام کو سہولت فراہم کی وہیں بہت سے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں اور اس ذریعہ آمدنی سے مرد کیا خواتین بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کررہیں۔لاہور کی روبیہ ندیم بھی ان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے نے موٹر سائیکل چلانا سیکھی تو اپنے شوق کے لئے تھے لیکن آج ان کا یہ شوق ان کی ضرورت بن گیا ہے۔ وہ پانچ بچوں کی ماں ہیں اور گھر کی کفالت کے لئے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانے کیلئے آن لائن بائیک سروس بائیکیا کی رائیڈر بن گئی ہیں۔

دنیا میں کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرے کی خواتین کی شمولیت نہ ہو ،اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے اسی طرح ہر کامیاب معاشرے کی تکمیل خواتین کی محنت اور کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستانی خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں ہمارے ملک کی خواتین چاہے کسی بھی طبقاتی نظام سے تعلق رکھتی ہوں نہ صرف ذہین ہیں بلکہ محنتی بھی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ وہ سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کرکے اپنے گھریلو معاملات کو بڑے احسن انداز میں نبھاتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سیاسی ، ادبی ، کاروباری ، صحت ، تعلیم ، یا کھیل جیسا کوئی بھی شعبہ ہو، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں۔

Story Courtesy: Urdu News

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

پاکستان کو چاند پر پہلا سیٹیلائٹ مشن بھیجنے کا موقع کیسے ملا؟

پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن ’’آئی کیوب قمر‘‘ کو چاند پر روانہ کر دیا گیا۔…

3 days ago

میں نے نماز پڑھی تہجد پڑھی قرآن پڑھا مگر میرا ڈپریشن کم نہیں ہوا ،صحیفہ جبار

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل صحیفہ جبار خٹک اپنی ذہنی صحت سے…

4 days ago

کیا عاطف اسلم نے آننت امبانی کی شادی سے قبل کی تقریب میں شرکت کی ہے؟

نامور گلوکار عاطف اسلم کی اپنی اہلیہ کے ساتھ بھارتی بزنس مین مکیش امبانی کے…

6 days ago

عاصم اظہر نے اپنےمداحوں کو خوشخبری سنا ڈالی

پاکستان کے نامور گلوکار و موسیقار عاصم اظہر نے اپنےمداحوں کو خوشخبری سنا ڈالی۔ فوٹواینڈ…

7 days ago

ملیریا ایک جان لیوا بیماری

دنیا بھر میں ہر سال 25 اپریل کو ملیریا کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔…

1 week ago

ہیٹ ویو کی خبر پڑھتے ہوئے نیوز کاسٹر بے ہوش

بھارت کے نیشنل براڈکاسٹر دور درشن کے بنگالی زبان کے چینل کی نیوز اینکر نشریات…

2 weeks ago