بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کی انتہاء، کچرے کی وین میں لاش ڈال دی

ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا ظلم اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ پہلے تو نفرت محض ان کی زندگیوں تک محدود ہوا کرتی تھی البتہ وقت گزرنے کے ساتھ نفرت کی آگ اب پیمانہ مزید خوفناک شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ جس کی مثال حالیہ دنوں آنے والے واقعے کی ہے جہاں ایک مسلمان کو مرنے کے بعد پولیس کی موجودگی میں کچرے اٹھانے والی گاڑی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جس کی ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر بلرام پور میں ایک سرکاری ادارے کی بلڈنگ کے باہر ایک بیالیس سالہ مسلمان محمد انور کی موت واقع ہوجاتی ہے البتہ وہاں سے اس کی لاش کو منتقل کرنے کے لئے پولیس کی موجودگی میں اسے ایک کچرا اٹھانے والی وین میں ڈال دیا جاتا ہے۔

البتہ اس انسانیت سوز واقعے کی کچھ لوگوں کی جانب ایک ویڈیو بنائی جاتی ہے اور سوشل میڈیا ڈال دی جاتی ہے۔ جو اس وقت بھارتی حکومت کا مکروہ چہرہ دنیا کو بتارہا ہے کہ مودی سرکار مسلمانوں کی بعض میں کس حدتک گرچکی ہے۔ اگرچہ بظاہر تو اس واقعے میں ملوث ہونے پر چار میونسپل کارپوریشن کے ملازمین سمیت 3 پولیس اہلکاروں کو نوکری سے معطل کردیا گیا ہے جن میں ایک پولیس سب انسپکٹر بھی شامل ہے۔

جبکہ بھارتی میڈیا کے مطابق مرنے والا محمد انور بلرام پور کے گاؤں کا رہائشی ہے جو کسی کام سے ایک سرکاری دفتر گیا تھا جہاں اس کی طبعیت بگڑتی ہے اور وہ اس سرکاری دفتر پر گر جاتا ہے اور پھر وہیں دم توڑ جاتا ہے۔ البتہ جب یہ واقعہ پیش آتا ہے تو وہاں پر پولیس اور میونسپل کارپوریشن کے ملازمین موجود ہوتے ہیں۔ جو اس کی لاش کو اس خوف سے ہاتھ نہیں لگاتے ہیں کہ کہیں اس کو کورونا وائرس نہ ہو۔ بعدازاں محمد انور کی لاش کو سرکاری دفتر کے گیٹ سے ہٹایا تو گیا البتہ ایک کچرے کی وین میں ڈال کے۔

جوں جوں اس واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی لوگوں کی جانب سے بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حمد انور کو مذہبی تفریق و تعصب کا نشانہ بنانے پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اگرچہ مذہبی بربریت اور نفرت کا بھارت میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ایسے کئی واقعات ماضی میں کئی بار پیش آچکے ہیں۔ اس سے قبل حال ہی میں ایک بھارتی ڈاکٹر کی ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے جس میں اس نے بھارت میں موجود رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں کہا تھا کہ اس کو یہ بات کہنے میں کوئی شرم نہیں کہ مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی طبی سہولیات نہیں مہیا کی جانی چاہیے۔ اس تناظر میں آج بھارتی سرکار کا کردار کیا ہے اس کا بخوبی سب کو علم ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago