عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ پھلوں کا بادشاہ آم مٹھاس سے بھرپور ہوتا ہے اسلئے ذیابیطس کے مریضوں کو آم کھانے سے مکمل گریز کرنا چاہئیے تو ایسا سوچنا مناسب نہیں۔ اس بارے میں طبی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض موسم کے آم کھا سکتے ہیں لیکن اعتدال کے ساتھ۔
طبی ماہرین کے مطابق دراصل آم میں موجود کاربو ہائیڈریٹ میں اضافی شکر کے اجزاء پائے جاتے ہیں جو خون میں گلوکوز کی سطح کو کافی حد تک متاثر کرسکتے ہیں۔ لہٰذا ذیابیطس کے مریض آم اپنی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں لیکن مقدار پر توجہ مرکوز رکھنا ضروری ہے۔
تحقیق یہ بتاتی ہے کہ آم میں وٹامن سی، وٹامن بی 6 اور وٹامن ای ہونے کے ساتھ ساتھ کوپر اور فولیٹ بھی پایا جاتا ہے، آم میں موجود وٹامن سی جسم میں آئرن کی کمی پوری کرنے کے ساتھ قوت مدافعت کے لیے بھی بہترین ہوتا ہے۔ جبکہ آم میں مو جودفائبر اور اینٹی آکسیڈینٹس خون میں موجود شکر کی مقدار کو بھی معتدل رکھتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریض مختلف اقسام کی سلاد میں سبزیوں کے ساتھ آم کو ملا کر اس کے ذائقے سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ سلاد میں آم کو ملا کر کھانے کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح خون میں گلوکوز کی سطح متاثر نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ ذیابیطس کے مریض آم کو جوس کے بجائے کاٹ کر کھائیں کیوں کہ جوس میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ جس دن آپ آم کھا رہے ہیں اس دن دوسری میٹھی اشیاء سے اجتناب کریں۔
یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کی ماہرین صحت کے مطابق پھل کھانے کا بہترین وقت صبح کا ہوتا ہے۔ جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کو کھانے تناول کرنے کے فوراً بعد آم کھانے نہیں کھانا چاہئیے کیوں کہ اسطرح خون میں موجود شکر کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ اس لئے اسکے استعمال سے قبل اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
پائیدار صنعتی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر، فریزلینڈ…
عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…
لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…
: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…
کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…
فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…