خلع لینی والی خواتین کو حق مہر واپسی دینی ہوگی، ایف ایس سی

وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں اپنے شوہروں سے خلع لینے والی مسلم خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے شوہروں سے شادی کے وقت حاصل کردہ حق مہر کی رقم واپس کریں۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو جاری ہونے والے فیصلے کا اعلان وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس محمد نور کنزئی، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ نے 17 فروری کو کیا۔ حق مہر ایک لازم اشیاء ہوتی ہے، جو شادی کے وقت براہ راست شوہر کی جانب سے بیوی کو پیسے یا کسی اور قیمتی اشیاء کی مد میں دی جاتی ہے۔

Image Source: File

اپنے فیصلے میں، شرعی عدالت نے 1964 کے عائلی قانون کی دفعہ دس اور ذیلی دفعہ پانچ اور چھے میں 2015 کی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ حق مہر اپنے شوہروں کو واپس کر دیں جن سے وہی خلع کی مد میں طلاق لینا چاہتی ہیں۔

اس موقع پر اسلامی عدالت نے مزید کہا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے اس کا حق مہر ادا کرنا ہوگا۔

سال 2015 میں ترمیم شدہ سیکشن دس، سب سیکشن پانچ اور چھے کے متعارف ہونے سے پہلے، ایک عورت مہر معجل کا 25 فیصد واپس کرتی تھی اور سیکشن چھے کے تحت وہ غیر معجل مہر کا 50 فیصد اپنے شوہر کو چھوڑ دیتی تھی۔ لیکن اب ایف ایس سی نے فیصلہ دیا ہے کہ خلع کی متلاشی خاتون کو اپنا تمام حق مہر چھوڑ دینا چاہیے۔ اور یہ قاعدہ یکم مئی 2022 سے لاگو ہو جائے گا۔

وہ حق مہر جو شوہر اپنی بیوی کو فوراً ادا کر دے اسے معجل کہتے ہیں اور وہ حق مہر جو ملتوی ہو جائے اسے غیر معجل کہتے ہیں۔

Image Source: File

واضح رہے عدالت نے یہ فیصلہ ان چار مردوں کی درخواستوں کی سماعت کے بعد دی،ا جنہیں ان کی سابقہ ​​بیویوں کی جانب سے تنگ کیا تھا۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے خلع حاصل کر رکھی تھی اور حق مہر حاصل کرنے کے لیے ان کے خلاف ڈگریاں حاصل کر رہیں تھیں۔

مزید پڑھیں: تکذیب نکاح کی اپیل مسترد، اداکارہ میرا عتیق الرحمان کی بیوی قرار

اس حوالے سے ایف ایس سی نے واضح کیا کہ ان تمام مقدمات میں جو 1 مئی 2022 کے بعد سول فیملی کورٹس میں جائیں گے، اس حکم کا اطلاق ان پر ہوگا۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل ایک فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے خاتون کے عدت گزارے بغیر دوسری شادی کو بے قاعدہ شادی قرار دیا تھا۔ فیصلے کے مطابق عدت گزارے بغیر شادی کو بے قائدہ یا فاسد کہا جاسکتا ہے لیکن اسے باطل یا زنا قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago