نیلم اسلم کا لباس و سنگار عید پر غیرمناسب تھا؟

پاکستان میں الیکڑانک میڈیا اگر کہا جائے اج بھی اپنے ارتقائی دور سے گزر رہا ہے تو اب یہ کہنا انتہائی نامناسب ہوگا۔ کیونکہ بیس سال کا عرصہ معنی رکھتا ہے۔ اس عرصے میں کئی پاکستانی الیکڑانک میڈیا انڈسٹری نے کئی نشیب و فراز دیکھیں ہیں۔ ایک دور تھا جب میڈیا معاشرے کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جانے لگا تھا میڈیا کسی بھی موضوع کو نشر کرتا تو وہ موضوع قومی موضوع بن کر سامنے آجاتا تھا۔ اگرچہ کئی بار الیکڑانک میڈیا انڈسٹری نے ایسی ایسی حماقتیں بھی کی ہیں جن پر عوام کی جانب انتہائی غیر معمولی روائیہ دیکھنے کو ملا جیسے کہ رپورٹر کا ایدھی صاحب کی قبر میں لیٹ جانا یا پھر بچوں کو بول کر اپنی مرضی کا شوٹ بنوانا۔ لیکن ایک طرف یہ عمومی رائے بھی تھی میڈیا اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کے خلاف ہمیں ہلکا ہاتھہ رکھنا چاہئے کیونکہ ابھی الیکٹرانک میڈیا کو زیادہ وقت نہیں ہوا ہے۔ البتہ اب سوشل میڈیا کا دور ہے ہر کوئی آواز بلند کرنے کی طاقت رکھتا ہے، ایک وقت تھا جب تنقید صرف میڈیا کرتا آج میڈیا بھی زیر تنقید اکثر آجاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا اس عید کے موقع پر جہاں ایک نجی میڈیا چینلز اور خاتون اینکر کو تنقید سامنا کرنا پڑا البتہ ایک بڑی تعداد نے ان کا دفاع بھی کیا۔

ماجرہ کچھ یوں پیش آیا جب ایک نجی نیوز کاسٹر نے عید کے دن جب خبرنامہ پڑھنا شروع کیا تو لوگوں نے خبر نامہ کے بجائے ساری توجہ ان پر مرکوز کرلی کیونکہ انہوں عید کے ایک چمک دھمک والا لباس زیب تن کر رکھا تھا اور ساتھ ایک ماتھہ پٹی بھی پہن رکھا تھی۔ اس چند لمحے کے واقعے نے سوشل میڈیا پر عید کے موقع پر ایک نئی بحث کر آغاز کردیا۔ سلسلہ کچھ یوں تھا کہ گزشتہ جمعہ کراچی میں فنی خرابی کے باعث فضائی حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 97 لوگ جاں بحق ہوگئے۔ ملک بھر میں سوگ کی فضاء قائم رہی بیشتر لوگوں نے عید کو سادگی سے منانے کا اعلان کیا۔ جب کچھ لوگوں نے نیلم اسلم کا یہ انداز دیکھا تو انہوں نے سوشل میڈیا خاص کر ٹوئٹر پر ان کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور ان کے خلاف کئی تنقیدی ٹوئیٹس کیں۔ لوگوں کا خیال یہی تھا کہ خبریں زیادہ تر افسوس و غم کی ہیں، ایسے میں اتنا تیار ہونا درست نہیں۔ یہاں تک کہ ایک مشہور صحافی نے بھی ان کو تنقید نشانہ بنایا ۔

دوسری جانب نیلم اسلم نے ناصرف ٹوئیٹس کے ذریعہ اپنا دفاع بھی کیا اور ناقدین کی تنقید کا جواب بھی بھرپور دیا انہوں نے کہا میرا اگر ڈسکاشن ختم ہوگیا ہے تو عید پر اپنے گھر والوں کو بھی وقت دے دیں۔

یہ ہی نہیں اس کے ساتھ کئی لوگوں نے نیلم اسلم کا کھل کر حمایت کرتے ہوئے کسی نے کہا کہ آج اس لڑکی منفرد کام سے لوگوں کا اندازہ ہوا کتنا فارغ ہیں تو کسی نے تنقید کرنا سستے لوگوں کا کام ہے۔

شاید اس بھس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے، کچھ دن بعد پھر کوئی ایسا واقعہ پیش آئے گا سوالات پھر کھڑے ہونگے۔ یہ میڈیا پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے آیا وہ مشترکہ طور پر اس پر اپنی پالیسی واضح کریں تاکہ آئندہ کسی شخصیت کو لیکر تنقید نہ کی جائے اور میڈیا پھر کھول کر دفاع کرسکے کیونکہ کوئی بھی ٹی وی پر آنے والا شخص اپنی مرضی کا مالک ایک حد تک ہوتا۔ پیسے پردہ ایک ٹیم ہوتی ہے کافی بااختیار تصور کی جاتی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago