جمہوریت کا حسن ہے اس کا نظام جہاں سب کو بولنے، لکھنے یعنی ہر قسم کی آزادی رائے حق ہوتا ہے. ایک جماعت یا ایک نمائندہ ، دوسری جماعت یا دوسرے نمائندے کی پالیسیز سے لیکر ًمنشور کو تنقید کا نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم انہی سب کے دوران یہ بھی جمہوری اقدار میں شامل ہے کہ سب کچھ اخلاقیات کے زمرے میں ہو، کسی پر بھی ذاتی نوعیت کی تنقید اور نازیبا لفظوں کا استعمال نہ ہے۔ لیکن شاید ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ان سب ضابطوں سے ماورا ہیں، جس کے باعث انہیں وقتا فوقتا ان کی غیر سنجیدہ حرکات وسکنات کے باعث انہیں تنقید کا سامنا رہتا ہے۔
ایسا ہی کچھ ایک بار پھر دیکھا گیا ہے، جس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندو برادری کے دیوتاؤں کے تضحیک کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے صوبہ پنجاب کے شہر ڈسکہ میں ایک خالی نشست پر ضمنی انتخابات ہوئے تھے، جس میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مابین بہت کانٹے کا مقابلہ تھا، لیکن نتیجہ ہار جیت کے بجائے متنازعہ ہوگئی، اور وجہ یہ سامنے آئی کہ کچھ پولنگ اسٹیشن کے پزائڈنگ افیسر اچانک غائب ہوگئے اور کئی گھنٹوں بعد ریٹرننگ آفیسر کے پاس نتائج لیکر پہنچے اور نتیجے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف حلقے سے کامیاب ہوگئی، جس پر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نتیجے کو ماننے سے انکار کردیا۔
اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے، حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور الیکشن نتائج میں دھاندلی کا الزام عائد کیا، اس دوران مریم نواز نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “اب یہ لوگ میرا ایک نیا روپ دیکھیں گے”.
لہذا اس سلسلے میں ردعمل دیتے ہوئے رہنما پاکستان تحریک انصاف ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر مریم نواز کے چلنے والے بیان کی تصویر کو ایڈٹ کرکے اس پر ہندو دیوتا (کالی ماتا) کی تصویر کو چسپاں کیا اور بریکنگ نیوز کی طرح دیکھایا اور اسے صارفین سے شئیر کردیا۔ اس پوسٹ پر انہوں نے کیپشن بھی درج کیا اور مریم نواز کا اسے دوسرا روپ قرار دے دیا۔
جوں ہی ڈاکٹر عامر لیاقت کی جانب سے یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی، اس پر شدید ردعمل سامنے آیا، صارفین نے رہنما تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پوسٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، صارفین کے مطابق ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنی اس پوسٹ کے ذریعے ہندو برادری کے مذیبی جذبات کو مجروح کیا ہے، لہذا انہیں اس پر فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی جانب سے ناصرف پوسٹ کو ہٹا دیا گیا بلکہ ان کی جانب سے معذرتی بیان بھی جاری کیا گیا ہے، ٹوئیٹر پر جاری پوسٹ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین لکھتے ہیں کہ “ہندو کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوئے معافی کا درخواست گار ہوں، مقصد ہرگز ایسا نہیں تھا، ٹوئٹ ہٹا دیا ہے، میں تمام مذاہب کی عزت کرتا ہوں، یہی میرے دین کی تعلیمات ہیں، ایک بار پھر معذرت ۔
واضح رہے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ناصرف ذمہ دار شخصیت ہیں بلکہ ان کے پاس رکن قومی اسمبلی کا اہم منصب بھی ہے، ان کے پاس سمیت دنیا بھر میں کئی چاہنے اور محبت کرنے والے ہیں ان کی جانب سے اس طرح کے متنازعہ بیانات کا آنا، انتہائی شرمناک ہیں اور غیرمناسب ہیں، انہیں سوچنا چاہئے کہ انہیں لاکھوں لوگ دیکھتے اور سنتے ہیں لہذا ان پر بہت ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
کراچی،14 اپریل 2025: پاکستان میں نفسیاتی تجزیاتی سوچ کو فروغ دینے کی ایک پرعزم کوشش…
سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کمپنی نے رمضان المبارک میں گھریلو صارفین کیلیے گیس کی لوڈشیڈنگ…
کراچی سمیت سندھ بھر میں اس سال نویں اور دسویں جماعت کا شیڈول تبدیل کر…
فروری سال کا وہ مہینہ ہے جو محض 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور…
پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا…