ایک اور کمسن بچی ہوس کا نشانہ بن گئی، ملزم گرفتار

عصمت دردی کا ایک اور ہولناک واقعہ دادو کے علاقے چھنو شہداد میں پیش آیا جس میں ایک تین سالہ کمسن بچی کو ریپ کے بعد زندگی کی جنگ اور موت کی کشمکش میں چھوڑ دیا گیا۔

انگریزی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچی ایک مزدور کی بیٹی ہے جسے نہایت تشویش ناک حالت میں دادو کے سول اسپتال میں داخل کروایا گیا جبکہ پولیس نے فوری طور پر ریپ ملزم کو گرفتار بھی کرلیا۔

Image Source: Help Guide

اہل خانہ کے مطابق بچی کھیلنے کے لئے باہر گئی تو مشتبہ شخص اسے اپنے گھر لے گیا اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بچی کے ماموں نے بتایا کہ ہم نے پولیس کو اطلاع دی اور جب لڑکے کو گھر سے باہر آنے کا کہا تو اس نے انکار کردیا جس پر علاقے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر نے مکان کا دروازہ توڑ کر عصمت دری کے ملزم کو گرفتار کرلیا اور متاثرہ بچی کو تشویشناک حالت میں دادو سول اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

انتباہ: اس ویڈیو کے مناظر پریشان کن ہیں ناظرین اپنی ذمہ پر دیکھیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) دادو اعجاز احمد جو متاثرہ بچی کی خیریت دریافت کرنے آئے تھے، انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 18 سالہ لڑکے نے 3 سالہ بچی کو ریپ کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ بچی کی والدہ نے جب اپنی بیٹی کو خون میں لت پت دیکھا تو ان کی آہ بکا سن کر ویمن پولیس اسٹیشن کی اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) بینظیر جمالی ان کے گھر پہنچیں۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ ایس ایچ او نے بچی کو اسپتال کے گائنی وارڈ پہنچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزم سے بی سیکشن پولیس تھانے میں تفتیش کررہی ہے اور اس گھناؤنے جرم میں اس کے ساتھی بھی ملوث ہوئے تو انہیں بھی گرفتار کیا جائے گا اور متاثرہ بچی کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائےگا۔

Image Source: Google

دوسری جانب ماہر امراض نسواں ڈاکٹر عرفانہ پیرزادو نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بچی کا ریپ ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ اس کے جسم سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا اور اب بھی اس کی حالت خطرے سے خالی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ میں بھی صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک سات سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ اس بچی کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی شام کے وقت دکان سے سامان لینے گئی تھی لیکن وہ واپس نہیں آئی، جس پر اس کی تلاش شروع کی گئی اور اگلی صبح گنے کے کھیت سے اس کی نیم برہنہ حالت میں لاش ملی۔

بعدازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا، ساتھ ہی پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم میں بچی کے ریپ کے بعد گلا دبا کر قتل کیے جانے کی تصدیق ہوگئی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں عصمت دری کے واقعات روز بہ روز بڑھتے جارہے ہیں۔ ملک میں بڑھتے ہوئے بدکاری، زیادتی اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے مختلف واقعات پر حکومت وقت کو ان گھناؤنے جرائم کے خلاف مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago