کم عمر چٹائی فروش الہام پر ظالم باپ کا بیہمانہ تشدد، ویڈیو وائرل

کہتے ہیں غربت اور بے روزگاری کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے، بےروزگاری اور اوپر سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ہوگی تو یقینی طور پر غربت میں اضافہ بھی ہوگا، یہی وجہ ہے کہ ایسی صورتحال پیدا ہونے کے بعد غربت سے دوچار لوگ محض دو وقت کھانے کی خاطر اپنے کم عمر بچوں کو تعلیم کے بجائے روزگار اور مزدوری کے لئے بھیجتے ہیں، افسوس کے ساتھ ہمارے ملک کا یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، یہاں پر ایک بڑی تعداد ہے بچوں کی جنہیں کم عمری میں غربت کے باعث مزدوری اور کام کرنا پڑتا ہے۔

تاہم کم عمری میں بچوں سے مشقت بھرے کام کرانے سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات آسکتے ہیں۔ جس سے ان کی آنے والی زندگی خراب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس ہی کم عمری میں بچوں سے مزدوری کروانے کا واقعہ حال ہی میں سامنے آیا جس میں 8 سالہ معصوم الہام نے انکشاف کیا کہ اس کے والد اسے گھر میں الیکٹرک شاک دیتے ہیں اگر وہ دن بھر میں چٹائی نہیں بیچ پاتا ہے۔

الہام کا بنیادی طور پر تعلق ایبٹ آباد کے علاقے نارئن سے ہے، وہ۔روزانہ چٹائیاں بیچتا ہے، جبکہ اس نے اپنے پاس ایک چٹائی کی قیمت 500 روپے مقرر کی ہوئی ہے۔ اس دوران اس کے والد کی جانب سے الہام کے لئے ایک ٹارگٹ رکھا گیا ہے کہ اسے دن میں کچھ بھی کرکے ایک چٹائی لازمی بیچنی ہے، اگر وہ یہ ٹارگٹ حصول کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو اسے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ الہام سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اس کے والد کسی معذوری کا شکار ہیں، اس لئے وہ اتنی چھوٹی عمر میں کام کررہا ہے، تو جواب میں الہام نے بتایا کہ نہیں، اس کے والد بالکل ٹھیک ہیں، البتہ اس کے والد بھی چٹائیاں بیچنے کا کام کرتے ہیں، الہام کا کہنا تھا کہ وہ پانچ بہن بھائی ہیں، جن میں بہنیں اور یہ دو بھائی ہیں۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اطلاعات ہیں کہ الہام کے والد کو پولیس کی جانب سے گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ ان سے معاملے کے حوالے سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

جوں جوں الہام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا لوگوں نے ناصرف معصوم الہام کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کیا بلکہ حکام سے گزارش کی کہ والد کے خلاف کاروائی کی جائے جبکہ اہلخانے کے لئے روزی روٹی کا کوئی مستقل بندوبست کیا جائے۔

واضح رہے گلوبل سلوری انڈیکس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر کم عمر بچوں سے محنت مزدوری کا تناسب زیادہ ہے، اس فہرست میں موریٹانیہ اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں کم عمری میں بچوں سے کام کروانا کتنا بڑا مسئلہ ہے، جس کی سب سے ایم وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بےروزگاری ہے۔

Image Source: Twitter

ًخیال رہے رواں برس جولائی میں حکومت پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے سخت قانون سازی کی گئی ہے، جس کے نتائج کافی بہتر سامنے آئے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

6 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago