جیسے کے ہم سب کے علم میں ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کا قیام ایک کٹھن جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے لئے کئی لاکھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے اور شہادت کو گلے لگایا۔ تاہم قیام کے بعد سے لیکر اب تک دشمنوں کی نظروں میں پاکستان کا نقشہ کھٹکتا رہا ہے لہٰذا دشمن کی جانب سے مختلف ہتھکنڈے اپنائے جاتے رہے ہیں تاہم افواج پاکستان ، ملک کے انٹیلیجنس ادارے، رینجرز، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے بہادر جوانوں نے ہمیشہ دشمنوں کو ان کے ناپاک عزائم میں ناکامی دکھائی اور بہادری کے ساتھ ملک اور قوم کا دفاع کیا۔
ملک کے ان ہی بہادر جوانوں میں ایک نام باہمت اور بہادر پولیس افسر محمد طاہر کا بھی ہے، جن کی ملک و قوم کے لئے دلیرانہ خدمات اور بہارری کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے گزشتہ ہفتے یوم دفاع کے موقع پر اعلیٰ سطحی سول ایوارڈ تمغہ شجاعت سے نوازا گیا ہے۔
محمد طاہر کی بہادری اور دلیری کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو 1 دسمبر سال 2020 کو بطور سی سی پی او محمد طاہر نے ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، پشاور پر ہونے والے خودکش حملوں کو ہمت اور بہارری کے ساتھ ناکام بنایا۔ واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ 3 خودکش حملا آوروں نے پشاور ایگریکلچر انسٹیوٹ پر حملا کیا، جس کا سی سی پی او پشاور محمد طاہر نے بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور دشمنوں کے ارادے کو چکنا چور کردیا، اگرچہ اس واقعے کے دوران سی سی پی او محمد طاہر کی اپنی گاڑی پر دشمنوں کی جانب سے 3 بار گالیوں سے حملا کیا گیا تاہم ناصرف سی سی پی او محمد طاہر نے حملے کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس واقعے میں دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے پر حکومت پاکستان نے انھیں اعلی سطحی سول ایوارڈ تمغہ شجاعت سے نوازا۔
سی سی پی او پشاور محمد طاہر کی تعلیمی قابلیت کے حوالے سے بات کی جائے تو محمد طاہر نے سال 1994 میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے 1999 میں مقابلے یعنی سی ایس ایس کا امتحان دیا۔ جس میں انہوں نے ناصرف کامیابی حاصل کی بلکہ انہوں نے پورے پاکستان میں 11 ویں پوزیشن بھی حاصل کی۔ بعدازاں ہونے والے انٹرویوز میں انہوں نے پاکستان میں ٹاپ پوزیشن کی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان پولیس سروس جوائن کی۔
پولیس ڈیپارٹمنٹ جوائن کرنے کے بعد نیشنل پولیس اکیڈمی (این پی اے) اسلام آباد میں ہونے والے 22 ویں بیسک کورس / 26 سی ٹی پی میں “بیسٹ پروبیشنر” بن کر سامنے آئے۔ یہی نہیں سال 2005 میں برطانوی اسکالرشپ پروگرام شیونگ کے لئے بھی منتخب ہوئے جس کے ذریعے انہوں نے برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ایم ایس سی کیا۔
جس کے بعد امریکہ ہوبرٹ ایچ ہمپفیرے کے فیلو پروگرام کے تحت یونیورسٹی آف مینس سوٹا کا حصہ بنے۔
بحیثیت قوم ہمارے لئے یہ بات قابل فخر ہے کہ ہمارے ملک کا دفاع نہایت ہی بہادر، دلیر اور قابل لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ جو ناصرف سینے میں شہادت کا جذبہ رکھتے ہیں بلکہ اپنی بہترین کے علمی صلاحیتوں کو اداروں کو مضبوط بنانے اور دشمنوں کے ارادوں کو پست کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…