منگل کے روز پاکستان میں تعینات برطانوی سفارت کار کرسچن ٹرنر نے اس بات کو واضح کر دیا کہ برطانوی ہائی کمشن کی جانب سے سیکیورٹی کی بنیاد پر اگلے ماہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے خلاف کوئی مشورہ نہیں دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی سفارت کار کرسچن ٹرنر نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ برطانوی ہائی کمیشن نے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی حمایت کی تھی۔ ہمارے پاکستان میں سفر سے متعلق تجاویز اور خیالات تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔
کرسچن ٹرنر کا مزید کہنا تھا یہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کا فیصلہ تھا جو کہ برطانوی حکومت کے فیصلے سے آزاد اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے خدشات پر مبنی ہے۔ واضح رہے مذکورہ بیان انگلینڈ کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
اس موقع پر کرسچن ٹرنر نے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر کرکٹ شائقین سے “گہرے دکھ” کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا ، “میں بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان واپسی کا چیمپئن رہا ہوں اور انگلینڈ کے 2022 کے دورے سے پہلے اپنی کوششوں کو دوگنا کروں گا۔”، “انہیں امید ہے کہ ہم جلد ہی شائقین سے بھرے کرکٹ اسٹیڈیموں کی گرج سنیں گے۔” انہوں نے اردو میں پیغام کو اختتام پذیر کرتے ہوئے کہا کہ آخر میں جیت کرکٹ کی ہوگی۔
واضح رہے پیر کے روز انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے اگلے ماہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والی محدود اوورز کی کرکٹ سیریز سیکیورٹی خدشات کی بنا پرت کھیلنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اکتوبر میں انگلینڈ کی مرد اور خواتین کرکٹ ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ جس کے بعد پاکستانی کرکٹ شائقین میں سیریز نہ ہونے پر شدید غم اور غصہ دیکھا گیا تھا۔
مزید پٍڑھیں: بھارتی کھلاڑی میچ ہارنے کے بعد معافیاں مانگا کرتے تھے، شاہد آفریدی
انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا، جب تین روز قبل نیوزی لینڈ کرکٹ اچانک سیکیورٹی کے خدشے پیش نظر دورہ پاکستان منسوخ کرکے واپس چلی گئی۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ انہیں روالپنڈی اسٹیڈیم کے باہر ممکنہ حملے کی اطلاعات تھیں۔
خیال رہے گزشتہ ہفتے کے آخر میں انگلش کرکٹ بورڈ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں اگرچے ای سی بی کی جانب سے کوئی مخصوص سیکیورٹی خدشے کا اظہار نہیں کیا گیا ہے البتہ اس میں کھلاڑیوں اور معاون عملے کی ذہنی اور جسمانی صحت کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس کرکٹ سیریز میں انگلینڈ کے مرد اور خواتین دونوں کی ٹیموں نے 13 اور 14 اکتوبر کو روالپنڈی میں دو ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچز کھیلنے تھے۔ جبکہ خواتین ٹیم کو تین ایک روزہ بین الاقوامی میچز سیریز کے لئے مزید 17 سے 21 اکتوبر تک قیام کرنا تھا۔ یہ دورہ انگلینڈ کی خواتین ٹیم کا پہلا دورہ تھا جبکہ مردوں کی ٹیم کا بھی سال 2005 کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔
ان دونوں دوروں کی منسوخی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگرچے پاکستان نے ای سی بی کو سال 2020 میں 300 ملین پاؤنڈ کے ریونیو کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دی تھی، ساتھ ہی پاکستان ٹیم نے برطانیہ میں کوویڈ 19 کی وبا کے عروج پر انگلینڈ کا دورہ کیا۔
مزید پڑھیں: کے پی حکومت کو نوشہرہ میں پہلا موٹر اسپورٹس کمپلیکس بنانے کا اعلان
یاد رہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے اتوار کے روز انکشاف کیا تھا کہ نیوزی لینڈ کی حکومت کو “فائیو آئی” کی جانب سے ان کی ٹیم پر پاکستان میں برائے راست حملے کی انتباہ دی گئی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ فائیو آئی ایک انٹیلیجنس اتحاد ہے۔ جس میں آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور نیوزی لینڈ شامل ہے۔
کراچی،14 اپریل 2025: پاکستان میں نفسیاتی تجزیاتی سوچ کو فروغ دینے کی ایک پرعزم کوشش…
سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کمپنی نے رمضان المبارک میں گھریلو صارفین کیلیے گیس کی لوڈشیڈنگ…
کراچی سمیت سندھ بھر میں اس سال نویں اور دسویں جماعت کا شیڈول تبدیل کر…
فروری سال کا وہ مہینہ ہے جو محض 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور…
پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا…