بھارتی کسانوں نے لال قلعہ میں خالصتان تحریک کے جھنڈے لہرا دیئے

زرعی اصلاحات کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں بھارتی کسانوں نے منگل کے روز درالحکومت دہلی میں واقع تاریخی لال قلعے کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے قلعے کے احاطے میں پہنچ گئے، جہاں انہوں پولیس سے جھڑپوں کے بعد قلعے کی عمارت پر اپنے جھنڈے نسب کر دیئے، اس دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے شدید آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

زرعی قوانین سے ناراض کسانوں کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کی قیمت پر بڑے اور نجی خریداروں کی مدد کرنے کے باعث، وہ پچھلے دو مہینے سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کررہے ہیں۔ کسانوں کے اس احتجاجی تحریک کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے لئے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

یہی نہیں آج یعنی 26 جنوری کو بھارت میں بھارتی یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے، اس اس سلسلے میں دہلی میں آج فوجی پریڈ سمیت کئی سرکاری پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ جبکہ اس ہی کو دیکھتے ہوئے، آج کسانوں کی جانب سے دہلی میں ٹریکٹر ریلی نکالنے اور لال قلعے پر جمع ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی اجازت اس بات پر دی گئی تھی کہ کسان فوجی پریڈ ختم ہونے کے بعد ریلی نکالیں گے۔

ہزاروں کی تعداد میں احتجاج کرنے والے مظاہرین میں ایک نام 55 سالہ سکھ دیو سنگھ کا بھی ہے، جو درالحکومت دہلی میں نکلنے والے ٹریکٹر احتجاج کا سرگرم حصہ تھے، اس دوران ان کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ مودی اب ہمیں سنیں گے، انہیں اب ہمیں سنا پڑے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کسانوں کی ٹریکٹر ریلیوں کو روکنے کیلئے دہلی میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ کسانوں کی ریلیاں دہلی میں داخل ہوئیں تو مودی سرکار کے حکم پر پولیس ریلیوں پر ٹوٹ پڑی۔ جس کے بعد پھر کیا تھا یوم جمہوریہ پر دہلی میدان جنگ بنا رہا اور پولیس اور کسانوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

دلی میں پولیس اور مظاہرین کے مابین ان جھڑپ کے نتیجے میں ایک کسان ہلاک ہوگیا، جس پر کسان تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے، کہ کسان کی موت پولیس کی گولی لگنے کے باعث ہوئی ہے، ہلاک ہونے والے کسان کی شناخت نونیت کے نام سے ہوئی ہے۔

دوسری جانب پولیس کی وحشیانہ تشدد اور ظلم کے باوجود کسانوں کی ریلی جاری رہی، اور طے شدہ مقام یعنی دہلی کے لال قلعہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کے بعد بھارتی کسانوں کی جانب سے خالصتان تحریک کے پرچم لال قلعہ میں لہرا دیئے گئے۔

واضح رہے بھارت میں حکومت اور کسانوں ہے مابین اس سے قبل 8 مذکرات کرکے چکے ہیں، تاہم تمام مذکرات اب تک بے نتیجہ رہے ہیں بعدازاں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اس قانون کو 18 ماہ کے لئے مؤخر کرنے کی پیشکش کردی کی تھی۔

یاد رہے بھارت میں گزشتہ برس نومبر میں بھارتی حکومت کی جانب سے زراعت کے شعبے میں قانون سازی کی گئی تھی، جس کے مطابق کسان کو اپنی فصل ریاست کے مقرر کردہ نرخوں پر مخصوص مارکیٹس میں فروخت کے بجائے اپنی مرضی سے کسی کو بھی کسی بھی قیمت پر فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بھارتی حکومت نے اسے کسانوں کے لئے ایک تاریخ ساز فیصلہ قرار دیا تھا تاہم بھارتی کسانوں کا موقف ہے کہ اس سے بھارتی زراعت پر بڑی مچھلیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago