
خواجہ سرا کو اگر ہمارے معاشرے کا ایک مظلوم اور پسا ہوا طبقہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، عموماً ان کے والدین پرورش کرنے اور علاج کروانے سے انکار کردیتے ہیں، تو کوئی انہیں عزت دار روزگار فراہم کرنے منہ کردیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے عموماً خواجہ سراؤں کو سڑکوں پر بھیک مانگتے، زور زور سے تالیاں بجاتے یا چلتے پھرتے لوگوں سے مزاق کرتے دیکھا ہوگا۔ یہاں سوال یہی بنتا ہے کہ کیا وہ یہ تمام کام شوق سے کرتے ہیں یا ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں؟
ایسی ہی ایک کہانی نیشا راؤ نامی خواجہ سرا کی ہے، جوکہ آج پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل ہیں، تاہم ان کی اس کامیابی اور خوابوں کو پورا کرنے کے لئے ان کی ایک طویل محنت اور جدوجہد ہے، جس میں تعصب، تشدد اور ظلم کے پہلوؤں کی بڑی فہرست ہے۔ جبکہ 28 سالہ نیشا راؤ آج پیشہ ور وکیل کی حیثیت سے کام کررہیں جہاں وہ خواجہ سراؤں سمیت تمام لوگوں کے کیسسز لڑتی ہیں۔

نیشا راؤ نے کراچی کے مشہور معروف سندھ مسلم لاء کالج سے سال 2018 میں وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ اگرچہ نیشا راؤ کا بنیادی طور پر تعلق لاہور سے ہے، میڑک تک تعلیم بھی لاہور سے ہی حاصل کی لیکن دس سال قبل گھریلو تشدد اور ٹارچر کے باعث اپنا گھر چھوڑ کر وہ لاہور سے کراچی بھاگ آئی تھی۔ نیشا راؤ جب کراچی آئی تو یہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا، نیشا نے دس سال یہاں سڑکوں پر بھیک مانگ کر گزارے اور انہی بھیک مانگے ہوئے پیسوں سے اپنی وکالت تک کے تعلیمی اخراجات پورے کئے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں والدہ کے حوالے بات کرتے ہوئے نیشا راؤ نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ شروع سے ہی وہ زنانہ خصوصیات رکھتی تھیں، وہ مدرسہ جایا کرتی تھیں، جہاں وہ لڑکیوں کے ساتھ بیٹھ کر قرآن پڑھا کرتی تھیں، اسکارف پہنا اور لپ اسٹک لگانا اُنہیں کافی پسند تھا اور یہ کیا کرتی تھیں، جس پر اہلخانہ کی جانب سے کئی بار مار پیٹ کی گئی.

اپنے اسکول کے دنوں میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے نیشا راؤ کا کہنا تھا کہ جب وہ اسکول جایا کرتی تھیں تو کئی اسکول کے بچے ان کے ارگرد جمع ہوجایا کرتے تھے اور ان کا بری طریقے سے مذاق بنایا کرتے تھے، ان کو دیکھ کر دیگر بھی انہیں دیکھ کر ہنسا کرتے تھے۔
نجی زندگی کے حوالے سے نیشا راؤ نے مزید بتایا کہ میڑک کرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے ان کی زندگی میں کسی بھی قسم کی کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکتا، وہ یہاں ظلم و جبر کا شکار رہیں گی لہذا انہوں نے پھر اپنے گھر کو چھوڑنے کا ایک دن فیصلہ کرلیا، اس حوالے سے انہوں نے اپنی بچپن کی دوست سے اس کا ذکر کیا، جس نے نیشا کو تعلیم حاصل کرنے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ہر ممکن مدد پیشکش کی۔

نیشا نے مزید بتایا کہ وہ یہ فیصلہ کبھی نہیں کرتی، اگر ان کے اہلخانہ انھیں سمجھ سکتے لیکن افسوس کے ساتھ اہلخانہ کا روائیہ انتہائی نازیبا اور خراب تھا۔ جس کے باعث انہوں نے میڑک کے بعد اپنے دو خواجہ سرا دوستوں کے ساتھ بھاگنے کا ارادہ بنایا۔ اس دوران کراچی آنے کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی، تو انہوں نے ٹرین کے ٹکٹ اور کچھ اخراجات کے لئے اپنے والد کی تنخواہ کے پیسے چوری کئے۔
چنانچہ کراچی پہنچنے کے بعد نیشا راؤ نے ابتدائی دیڑھ ماہ ایک خواجہ سرا دوست کے گرو کے گھر گزارے جہاں انہیں کھانا اور دیگر ضروریات زندگی کی چیزیں مہیا کی جاتی تھیں لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ خواجہ سراؤں کے گرو بھی غریب ہی لوگ ہوتے ہیں۔ لہذا اُنھیں پھر کچھ کرنا تھا، اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈانس وغیرہ بالکل نہیں آتا تھا اور ہی وہ اس قسم کا کوئی کام کرنا چاہتی تھیں لہذا انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کیا گیا۔
نیشا راؤ کے مطابق ابتداء میں انہیں بھیک مانگنا بہت برا لگتا تھا، لیکن ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس شناختی کارڈ وغیرہ کچھہ موجود نہیں تھا، لہذا انہیں کوئی بھی ادارہ اور این جی او انہیں نوکری نہیں دے سکتی تھی۔ تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور سگنلز پر بھیک مانگنا شروع کردی۔

نیشا راؤ نے خواجہ سراؤں کی زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کا راوئیہ خواجہ سراؤں کے ساتھ نہایت ہی خراب ہوتا ہے، جبکہ اکثر اوقات مار پیٹ بھی کرتے ہیں۔ اس دوران ان کے ایک استاد مدثر اقبال چوہدری نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ وکیل بن جائیں، جس پر انہیں کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوگی البتہ پولیس بھی ان سے ڈرے گی۔
جس کے بعد نیشا راؤ نے اپنے کامیابی کے سفر کا آغاز کیا، انہوں نے ابتداء میں جامعہ کراچی سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ میں بیچلرز کیا بعدازاں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لاء کالج کا انٹری ٹیسٹ کلئیر کرکے وہاں داخلہ حاصل، اس دوران ان کا کہنا تھا کہ آج انہیں خوشی ہے کہ انہوں تمام تعلیمی اسناد خواجہ سراؤں ہونے کی شناخت پر حاصل کی ہیں۔

نیشا راؤ کا اپنے تعلیمی دور کے حوالے سے مزید کہنا تھا کہ لاء کالج میں داخلہ لینے کے بعد انہوں نے اپنا ایک ٹائم ٹیبل بنایا جس میں وہ رات 8 سے 12 تک بھیک مانگا کرتی تھیں جبکہ دوپہر 2 سے 5 لاء کالج پڑھنے جایا کرتی تھیں۔
ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتداء میں انہیں کافی مشکل پیش آتی تھی کہ وہ لڑکوں کے ساتھ بیٹھیں یا ہھر لڑکیوں کے ساتھ لیکن سال گزرنے کے بعد چیزیں بہتر ہونا شروع ہوگئیں تھیں، اس عرصے کے دوران انہوں نے کالج میں کافی دوست بھی بنالئے تھے۔ جبکہ پروفیشنل زندگی میں بھی دیگر وکلاء اور ججز کا راوئیہ بھی قابل تعریف رہا ہے۔
اپنے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نیشا راؤ نے بتایا کہ وہ ابھی اپنی این جی او کے ذریعے لوگوں کی مدد کررہی ہیں، آگے چل کر وہ یہ بھی ارادہ کرتی ہیں کہ وہ اپنی این جی او کے زریعے ایک ہیلپ لائن متعارف کروائیں جس سے خواجہ سرا وکیل دیگر خواجہ سراؤں کی مدد کرسکیں۔
یہی نہیں نیشا کہ اگر فلاحی کاموں کے حوالوں سے بات کی جائے انہوں نے ایک شیلٹر ہوم بھی قائم کر رکھا ہے، جہاں بزرگ خواجہ سراؤں کو بہترین انداز میں خیال رکھا جاتا ہے، انہیں ہر قسم کی ضرورت زندگی کی چیزیں مہیا کی جاتی ہیں۔
حالیہ کچھ عرصوں میں نیشا راؤ کی محنت کے باعث ان کی زندگی کافی تبدیل ہوچکی ہے البتہ اس عرصے میں سب سے بڑی تبدیلی جو آئی ہے وہ ان کے رشتہ داروں کے روئیے ہیں جو اب انہیں کافی عزت دیتے ہیں، ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ جو بھی لوگ انہیں تکلیف پہچاتے تھے ، انہیں کئے ہوئے کاموں کو پھر سے سوچنا ضرور چاہئے۔
0 Comments