وزیراعظم کا زیادتی کے مجرمان کو نامرد بنانے کا قانون لانے کی اجازت

ملک میں عصمت دری کے واقعات ، بدکاری ، زیادتی اور بچوں سے بدسلوکی کے بڑھتے ہوئے گھناؤنے جرائم کی روک تھام کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے ملزمان کے لئے کاسٹریشن (نامرد بنانے)کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون سازی پر بحث کی گئی۔ بعد ازاں، اس اجلاس میں مجرمان کی سخت سزاﺅں پر مشتمل سفارشات کی منظوری دے دی گئی جبکہ زیادتی کے مجرمان کیلئے کیسٹریشن کا قانون لانے کی بھی منظوری دیدی گئی ہے۔

Image Source: Twitter

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنگین نوعیت کا معاملہ ہے، قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے، عوام کے تحفظ کیلئے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہوگی، یقینی بنایا جائے گا کہ سخت سے سخت قانون کا اطلاق ہو۔

اس اجلاس میں کچھ وزراء نے زیادتی کے مجرمان کو پھانسی کی سزا قانون کا حصہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادتی کے مجرمان کو سرعام پھانسی دی جائے۔ اس موقع پر عمران خان نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر کیسٹریشن کے قانون کی طرف جانا ہوگا۔

Image Source: Facebook

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم نے ریپ قانون آرڈیننس کے مسودہ پر کام مکمل کرلیا ہے، خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات، گواہوں کا تحفظ بنیادی حصہ ہوگا، متاثرہ خواتین یا بچے بلاخوف وخطر اپنی شکایات درج کراسکیں گے، متاثرہ خواتین و بچوں کی شناخت کے تحفظ کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا ، “ہمیں اپنے شہریوں کے لئے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے”۔

خواتین اور بچوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات کو روکنے کے لئے وفاقی کابینہ نے اصولی طور پر مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کی منظوری دی ہے اور حکومت جلد قانون پر عمل درآمد کرے گی ۔اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے ٹوئٹر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون جلد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کرنے والے وحشی درندوں کے خلاف سخت سے سخت سزاؤں، اسپیشل پولیسنگ, فاسٹ ٹریک مقدمات، گواہوں اور متاثرین کو تحفظ, ریپسٹ کا ڈیٹا بینک, فوری اور تیز رفتار تفتیش اور دیگر نکات پر مبنی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد جلد ہی اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ قصور کی ننھی زینب اور رواں سال لاہور میں موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعےنے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر خاتون خود کو غیر محفوظ تصور کر نے لگی جس کی وجہ سے ہر فورم پر لوگوں نے خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے آواز بلند کی اور اس طرح عصمت دری کے واقعات کو روکنے کے لئے ملک میں مربوط قوانین کے اطلاق کے لئے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ اس حوالے سے قانون سازوں نے خواتین کا جنسی استحصال اور بچوں کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے لئے قانون سازی بھی کی لیکن اس قانون پر کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی۔ تاہم، اس سلسلے میں زیادتی کے مجرمان کیلئے کیسٹریشن کے قانون کا نفاذ حکومت کا اہم اقدام ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago