استاد کا معصوم بچوں پر بہیمانہ تشدد،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

ایک اور افسوسناک واقعہ حال ہی میں اس وقت پیش آیا جب ایک سبق بھولنے پر قرآن کریم کی تعلیم دینے والے ایک استاد نے معصوم بچے کو بے دردی سے مارا۔ یہاں تک کہ اس واقعے سے دوسرے بچوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے عبرت کے طور پر فلمایا جاتا ہے۔ انسانیت کے لئے سراسر بدنامی ہے۔

ابھی تک ، یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ المناک واقعہ کس مدرسے میں پیش آیا ۔ اس کے علاوہ ، قاری کی شناخت بھی فی الوقت غیر واضح ہے۔ ماضی میں بہت سے لوگوں نے سرکاری اور دوسری تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مدرسوں کے حوالے سے سخت کارروائی کریں۔

Image Source: Facebook

مذہبی اسکولوں اور مدرسوں میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کا رجحان انتہائی حد تک بڑھاتا جارہا ہے۔ تاہم اس طرح کے زیادہ تر واقعات منظر عام پر نہیں آتے۔ اس کی دو بڑی وجوہات میں ایک تو یہ کہ پاکستان جیسے ملک میں مذہبی مبلغ یا مدرسے کے اساتذہ بہت زیادہ با اثر ہیں اور دوسرا یہ کہ جنسی استحصال یا زیادتی کے معاملے پر بات کرنے کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے نہ تو معاشرے میں ان موضوعات پر زیادہ تر بات کی جاتی ہے اور نہ ہی عوام سطح پر اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے مدارس میں بچوں کے ریپ ایک خوفناک مسئلہ ہیں۔ لیکن جب بھی جنسی زیادتی کے کیس سامنے آئے، مذہبی حلقے انہیں مدارس کے خلاف سازش کہہ کر دبانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

بچوں سے بدسلوکی کے قطع نظر، جنسی ہو یا جسمانی، اب بھی ابھر کر سامنے آرہے ہے، کچھ والدین اپنے معصوم بچوں کو نام نہاد مذہبی اداروں میں بھیجنے کے بارے میں اٹل دکھائی دیتے ہیں، جہاں وہ توقع کرتے ہیں کہ ایسے اساتذہ انہیں دینی علم سے روشن کریں گے اور انہیں صحیح راہ پر لائیں گے۔

کیا ان اداروں میں رونما ہونے والے ناقابل بیان واقعات کے بارے میں وہ اندھیرے میں ہیں؟ والدین کو اپنے بچوں کو اس طرح کے ظلم و بربریت سے دوچار کرنے کے لئے یکساں طور پر جوابدہ ہونا چاہئے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تشدد پسند قاری بچوں کو اذیت دے کر کس طرح کی گھناؤنی خوشی حاصل کرتے ہیں؟ لگتا ہے، ہم کبھی نہیں جان پائیں گے!

حقیقت میں ، ایسے معاملات کے سلسلے میں قانونی کارروائیوں کی ضرورت اہمیت کی حامل ہے۔ بہر حال، اس سے پہلے کہ صورتحال نہایت ہی افسردہ اور پریشان کن ہو ، یہ پہلا موقع نہیں جب اس طرح کا بھیانک واقعہ پیش آیا ہو، اور نہ ہی مایوسی آخری صورت ہے ۔

کچھ ہی دیر پہلے ، ہراساں کرنے اور بدسلوکی کے ایک اور واقعے نے ہمیں اس کی طرف مچلا دیا، جب ایک قاری نے اپنے حملے پر خاموش نہ رہنے پر اپنے طلباء پر تیزاب پھینک دیا۔ ہمارے ذہنوں میں صرف یہی خوف ہے کہ کیا انصاف قائم ہوگا؟ کیا ان معصوم بچوں کو وہ بچپن ملے گا جس کے وہ واقعتا مستحق ہیں؟

پاکستان میں بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف سخت قانون ہے۔ لیکن ، یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا دی جائے۔ اس کی وجہ غیر مستحکم عدالتی نظام یا خدا پرستوں کے اتفاق رائے کی وجہ سے ہوسکتا ہے جو ان مجرموں کو اپنے دائرہ کار میں لیتے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago