وفاقی وزیر فواد چودھری کا میڈیکل کی طلباء کو اہم مشورہ

یہ شاید پاکستان کی نہیں دنیا کی حقیقت ہو کہ بچپن میں کسی اسکول جاتے ہوئے بچے سے آپ پوچھیں بڑے ہوکر تم کیا بنو گے، تو شاید 90 فیصد بچوں کا جواب ہو ڈاکٹر بنیں گے اور یہی سوال آپ بچوں کے والدین سے پوچھیں تو شاید زیادہ تر کر یہی جواب ہمارا بچہ تو ڈاکٹر بنے گا۔ اور آج حقیقت بھی یہی ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں میں ڈاکٹر بننے کے رجحان میں بڑا اضافہ ہوا ہے، بڑی تعداد میں لوگ ایم بی بی ایس کرتے ہیں، اس کا نتیجہ یہی سامنے آیا کہ ڈاکٹر تو بہت ہوگئے، لیکن اس شعبے میں نوکریوں کی تعداد میں کافی کمی آگئی ہے۔

کوئی وقت تھا، جب بچوں اور والدین کی پہلی ترجیح ہوا کرتی تھی کہ ایم بی بی ایس یعنی میڈیکل یا پھر انجینرنگ میں داخلہ لے لیا جائے تاکہ مستقبل بہتر بن سکے، کیونکہ ان شعبہ جات میں پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اچھی نوکریاں لگ جایا کرتیں تھیں البتہ اب ایسا نہیں ہے، حالات بالکل مختلف اور تبدیل ہوگئے ہیں، اب انجینرنگ اور میڈیکل والے طلباء کو اتنی آسانی سے نوکریاں نہیں ملا کرتی، وجہ اس شعبہ جات میں طلباء کا بہت زیادہ ہونا، جس کے باعث ان میں مواقع اب کافی ہوتے جارہے ہیں۔

Image Source: Facebook

اس سلسلے میں مختلف حلقوں سے اس بات کی آگاہی وقتاً فوقتاً کافی عرصے سے دی جاتی رہی ہے، اب ایسا ہی کچھ مشورہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کی جانب سے طلباء کو دیا گیا ہے، ان کے مطابق طلباء کو اب میڈیسن کے شعبے سے آگے بڑھ کر سوچنا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری کردہ پیغام میں طلباء کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جن طلباء کی دیرینہ خواہش ہے کہ وہ میڈیسن میں داخلہ لیں اور ڈاکٹر بنیں، انہیں چاہئے کہ اسے چھوڑ کر وہ بائیو ٹیک کے شعبے کا انتخاب کریں کیونکہ ان کے مطابق آئندہ آنے والے 15 سالوں میں ڈاکٹروں کا شعبہ اب اپنی اونچائی سے نیچے کی طرف جائے گا۔

وفاقی وزیر فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس (اے آئی) ابھی ویسے بھی میڈیسن کے شعبے سے اوپر جاچکی ہے، لہذا ان صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام طلباء کو مشورہ ہے کہ وہ اپنا رجحان ڈاکٹر بننے کے بجائے بائیو ٹیک کی طرف مرکوز کریں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ آئندہ آنے والا دور بائیو ٹیک کا ہے۔

Image Source: Asia Times

اگرچہ اگر بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے کے حوالے سے بات کی جائے، کہ یہ آخر ہے کیا؟ بائیو ٹیک بائیولوجی (علم حیاتیات) کا ایک وسیع شعبہ ہے۔ جس میں طرزیاتی نفاذ ہے کہ جو حیاتی نظام کو، زندہ نامیات یا انسے ماخوذات کو پیداوار بنانے یا اس میں ترمیم کرنے کے لئے یا مخصوص مصارف کی عملکاری میں استعمال کرتا ہو۔

 آسان الفاظ میں اگر بات کی جائے تو اس کا اصل مقصد زندہ حیاتیات جیسے بیکٹیریل خلیات، خمیر وغیرہ کا استعمال کرکے ایسی ادویات کا پیدا کرنا ہے، جن کے مادہ سے فارماسیوٹیکل شعبے میں نئی جدیدیت پیدا کی جاسکیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago