ماں پر تشدد کرنے والا بیٹے ارسلان کو پولیس نے گرفتار کرلیا

گزشتہ روز زوبیہ میر نامی ایک کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس نے دیکھنے اور سننے کو سکتے میں ڈال دال دیا کہ کیا حقیقت میں کوئی بیٹا اپنی ماں پر ہاتھ اوٹھا سکتا ہے؟ ہاتھ نہیں بلکہ ماں کی ساتھ انتہائی بربریت زدہ سلوک کرسکتا ہے۔ شاید یہ بات آپ اور میں سوچ بھی نہیں سکتے لیکن معذرت کے ساتھ یہ بھی ہمارے معاشرے کی حقیقت بن کر سامنے آیا ہے ، تاہم اس ویڈیو نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے اوسان خطا کردئے۔ لوگوں کی جانب سے اس واقعے میں شدید غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔

اس ویڈیو کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ستم ظریفی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک جانب بیٹا ماں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے تو دوسری جانب بیٹے کی بیوی یعنی بہو بیٹے کو ماں پر تشدد کے لئے مزید اکساتی ہے، یوں ایک ماں کو ایک بیٹے کے ہاتھوں جنسی تضحیک کا سامنا اپنی ہی اولاد سے کرنا پڑتا ہے۔

تاہم اس ویڈیو کے وائرل ہونے سے قبل ارسلان کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا جاتا ہے البتہ کچھ ہی دیر کے بعد ارسلان کو پولیس کی جانب سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ارسلان کی بہن زوبیہ میر کی جانب سے ایک اور ویڈیو پیغام جاری کیا جاتا ہے، جس میں وہ پورے واقعے کا احوال بتاتی ہے کہ کس طرح اس کے بھائی ارسلان نے والدہ اور اس کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ پولیس نے میڈیکل کروانے کے باوجود ارسلان کے خلاف کوئی شکایت درج نہ کی اور ارسلان کو پھر چھوڑ دیا۔ جس کے بعد زوبیہ میر نے پوری قوم سے مدد مانگتے ہوا کہا کی ان کی مدد کی جائے۔

اس ویڈیو کے آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک طوفان سے برپا ہوگیا، ہر ایک سوشل میڈیا زوبیہ اور متاثرہ والدہ کے لئے آواز بلند کرنے لگا اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ ارسلان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور اس کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسی بربریت کا واقعہ پھر کبھی پیش نہ آسکے۔ البتہ اس کے بعد پولیس بھی حرکت میں اور اس نے ارسلان اور بیوی بسمہ کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے جلد از جلد گرفتار کرنے کی کوشش کا بھی وعدہ کیا۔

مقدمہ کے چند ہی گھنٹوں بعد روالپنڈی پولیس کی جانب سے مرکزی ملزم ارسلان کی گرفتاری کی خبر دی جاتی۔ سپریٹنڈنٹ پولیس عاطف نظیر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں قوم کو خوشخبری سناتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پولیس کی جانب سے مرکزی ملزم ارسلان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

گرفتاری کے پولیس حراست میں ارسلان کی جانب سے ایک ویڈیو بیان دیا جاتا ہے جس میں وہ اپنے اس گھنونے، بداخلاق اور بدبختی بھرے جرم کو قبول کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی والدہ کی جانب سے اس کی بیوی بسمہ کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی اور اس نے یہ سب کیا جبکہ ساتھ ہی گھر میں پہلے سے کچھ معاملات چل رہے تھے جس سے اس پر برڈن اور پریشر تھا اور اس نے یہ سب کیا۔ تاہم ملزم ارسلان کی جانب سے ناصرف اپنی والدہ سے معافی گئی ہے بلکہ اس نے پورے پاکستان کی ماؤں سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگی گئی ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر ابھی بھی لوگوں کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ملزم ارسلان کو اس واقعے پر سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے اور ایک مثال قائم کرنی چاہئے کہ اس گناہ کا انجام کیا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کی چوتھی پیشکش ’’شبنم‘‘ ریلیز، مانو اور زوہا وسیم کی آوازوں کا منفرد امتزاج

لاہور: کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے میوزک پروجیکٹ کی چوتھی پیشکش ’’شبنم‘‘ ریلیز کر دی،…

5 days ago

آئی ٹیل انرجی کی سولر پاکستان ایکسپو میں جدید بیٹری کی نمائش، کمرشل و صنعتی شعبے میں توسیع کا اعلان

آئی ٹیل انرجی نے سولر پاکستان ایکسپو 2026ء میں جدید جنریشن ٹو بیٹری، آر ای…

2 weeks ago

خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے پی ایم این کی سالانہ کانفرنس میں دو اہم اعزازات حاصل کر لیے

خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ (KMBL)، جو پاکستان کا پہلا مائیکروفنانس بینک ہے، نے پاکستان مائیکروفنانس…

2 weeks ago