سیاحتی مقامات پر کورونا مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ

ملک بھر میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر نظر عائد لاک ڈاؤن جوں ہی حکومت کی جانب سے مرحلہ وار ختم ہونے کا اعلان ہوا، طویل عرصے سے گھروں میں قید اور نظر بند لوگوں کی جانب سے جہاں سکھ کا سانس لیا گیا وہیں بڑی تعداد میں سیر و تفریح کی غرض سے لوگوں نے ملک کے شمالی علاقہ جات کا رخ کیا۔

تاہم ایک جانب پاکستان کے سیاحتی مقامات کی ایک بار پھر سے رونقیں بحال ہوگئیں تو دوسری جانب لوگوں کی اچانک بڑی تعداد کا رخ کرنے کے بعد کورونا وائرس کا خطرہ ایک بار پھر سے بڑھنے لگا، اس حوالے جب ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن مانسہرہ کی جانب سے ہوٹلز میں کام کرنے والے اسٹاف کے جب کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروائے جس میں کئی افراد کے کورونا وائرس کے تصدیقی ٹیسٹ مثبت آئے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ہر خاص و عام کے لئے پہلے ہی احکامات دیئے گئے تھے کہ احتیاطی تدابیر کو لازمی بروئے کار لایا جائے لیکن شاید ایسا نہیں ہوا۔

تاہم اب اس ہی سلسلے کے باعث ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن مانسہرہ کی جانب سے اب تمام ہوٹلز کو کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر بند کردیا گی۔

Image Source: Dawn

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مانسہرہ مقبول حسین نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تمام ہوٹلز سے جب کورونا وائرس کے ٹیسٹ کئے گئے تو اس میں 47 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ جس کے ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے 48 ہوٹلز کو فوری طور پر سیل کردیا گیا، جبکہ جن افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں انہیں فوری طور پر انہی ہوٹلز میں کرینتینہ کردیا گیا۔ واضح رہے انتظامیہ کی جانب سیل کئے گئے ہوٹلز مانسہرہ کے 3 مشہور سیاحتی مقامات پر واقع ہیں۔

جہاں ایک جانب یہ انکشاف ہوا کہ کورونا مریض جو کہ ہوٹلز ملازمین ہیں ان کو وائرس مریضوں سے براہ راست لگا ہے، اس سے ایک سخت ڈر و خوف کی فضا بھی علاقے میں پھیل چکی ہے۔ ساتھ ہی اس ہی وجہ سے کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بھی ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کو خط لکھا گیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ ناران کے مقام پر واقع 5 ہوٹلز اور ریسٹورانٹ پر اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے۔ کیونکہ ہفتے کے روز جب ہوٹلز ملازمین کے ٹیسٹ کئے گئے تو معلوم ہوا کہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر مظہر حسین نے بتایا کہ کافی لوگ کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں لہذا اب ان کے باعث اور وباء کو مزید ہھیلنے سے روکنے کے لئے ان جگہوں کو سیل کرنا ہوگا۔

Image Source: Geo.tv

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے بھی سفاحتی مقامات پر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے اضلاع مالا کنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6 لاکھ 27 ہزار کے قریب لوگ سیاحتی مقامات پر آئے ہیں۔ جس کے باعث علاقے میں کورونا مریضوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا یہی وجہ ہے ڈسٹرکٹ سطح پر کورونا تشخیصی ٹیسٹ کا سلسلہ ان تمام جگہوں پر شروع کردیا گیا ہے۔

اگرچہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی سے قبل بات کی جائے تو ہزارہ اور مالا کنڈ ڈویژن میں تقریباً 137 کیس ریکارڈ ہوئے تھے البتہ لاک ڈاؤن کے بعد یہ تعداد 372 تک جاپہنچی ہے۔

اس ہی حوالے سے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر رضا علی حبیب کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد اور گلیات کے مقامات پر بھی اس عرصے کے دوران کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد محض بارہ دن میں 3 لاکھ 56 ہزار لوگوں کی جانب سے ایبٹ آباد اور گلیات کا رخ کیا گیا ہے۔

جس کے باعث علاقائی انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جس میں پہلے ہفتے میں 1000 ٹیسٹ لئے گئے جس میں 25 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago